وادی کشمیر میں جاری پکڑدھکڑ کے دوران 200 سے زائد کشمیری گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ذرائع کے مطابق سرینگر سمیت وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں ہفتے کو شروع کی گئی پکڑدھکڑ کا سلسلہ اتوار کی صبح بھی جاری رہا۔ مربوط چھاپوں کے دوران تقریبا 200 نوجوانوں کو پوچھ گچھ کے نام پر گرفتار کیا گیا اور گرفتار افراد کو اوور گرائوند ورکرز کا نام دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی تازہ ظالمانہ کارروائیوں کے دوران 200 سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے جنہیں اوور گرانڈ ورکرز کا نام دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرینگر سمیت وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں ہفتے کو شروع کی گئی پکڑدھکڑ کا سلسلہ اتوار کی صبح بھی جاری رہا۔ مربوط چھاپوں کے دوران تقریبا 200 نوجوانوں کو پوچھ گچھ کے نام پر گرفتار کیا گیا اور گرفتار افراد کو اوور گرائوند ورکرز کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اصطلاح بھارتی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عام کشمیریوں کی گرفتاری کو جواز فراہم کرنے کے لیے وضع کی ہے۔ پولیس کے بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان گرفتاریوں کا مقصد آزادی پسند تنظیموں کے لیے امدادی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے، لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی لوگوں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی نظربندیوں سے مقبوضہ علاقے میں عام شہری متاثر ہوتے ہیں، خوف ودہشت کی فضا قائم ہوتی ہے اور بنیادی آزادیاں سلب ہو جاتی ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اوورگرائونڈ ورکرجیسی لیبل کا استعمال شفاف قانونی بنیاد یا مناسب قانونی کارروائی کے بغیر بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ گرفتاریاں مقبوضہ علاقے میں جاری محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران کی گئیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران سینکڑوں چھاپے، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں اور لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی جو قابض حکام کی ایک وسیع حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہری اور سیاسی حقوق کی پامالیوں کو مزید اجاگر کرتا ہے جہاں اکثر گرفتاریوں کو کالے قوانین کے ذریعے احتیاطی نظر بندی کے بہانے جائز قرار دیا جاتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے لوگوں میں بداعتمادی بڑھ جائے گی اور علاقے میں پہلے سے ہی نازک سماجی و سیاسی ماحول مزید ابتر ہو جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔