رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے جس سے کشمیری عوام کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق بھارتی وزیر یشونت سنہا کی زیر قیادت سول سوسائٹی کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی عدم بحالی پر کشمیری عوام میں مودی حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے سول سوسائٹی کے کنسرنڈ سیٹیزنز گروپ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں میں بھارت سے بڑھتی ہوئی بیگانگی اور مایوسی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یشونت سنہا، سشوبھا بروے، ایئر وائس مارشل ریٹائرڈکپل کاک اور صحافی بھارت بھوشن نے 28 سے 31 اکتوبر تک مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تھا اور مختلف سیاسی رہنمائوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، کاروباری گروپوں، ماہرین تعلیم اور صحافیوں سے ملاقات کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گروپ کے گزشتہ دورے کے مقابلے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام میں بھارت کے خلاف غم و غصہ اور ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے۔ کشمیریوں نے وفد سے گفتگو میں مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی عدم بحالی اور مودی حکومت کے دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں پر تشویش ظاہر کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے جس سے کشمیری عوام کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کشمیری عوام رپورٹ میں کشمیر کے حکومت کے گیا ہے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق