Daily Pakistan:
2026-06-03@07:15:06 GMT

پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے: آئی ایم ایف

اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT

پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے: آئی ایم ایف

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)  نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے، مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد سے 6.3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا کہ جون 2026 میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 8.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، مہنگائی کی شرح جون 2025 میں 3.

2 فیصد تھی۔

آئی ایم ایف نے گزشتہ 2 سال کی معاشی کارکردگ اور رواں مالی سال کی معاشی پروجیکشنز بھی جاری کر دیں۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.2 فیصد پہنچنے کا امکان ہے، پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 8 فیصد سے کم ہو کر 7.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستان اور یو اے ای کی دوستی ہمیشہ مثالی رہی ہے، ابراہیم حسن مراد کی  یومِ الاتحادپر مبارکباد

آئی ایم ایف نے کہا کہ مالی سال 2026 میں معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ 16.3 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ مالی سال 2025 میں معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ 15.9 فیصد تھا۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026 میں مالیاتی خسارہ 4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، مالی سال 2025 میں مالیاتی خسارہ 5.4 فیصد تھا، مالی سال 2026 میں معیشت میں قرضوں کا بوجھ 69.6 فیصد تک ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2025 میں معیشت پر قرضوں کا بوجھ 70.6 فیصد تھا، مالی سال 2026 میں غیرملکی قرضے معیشت کا 22.5 فیصد تک ہوسکتے ہیں، مالی سال 2025 میں غیرملکی قرضے معیشت کا 22.5 فیصد تھے۔

’’وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے رشتہ دار منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں،یہ سرپرستی کرتے ہیں‘‘وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی کا بڑا الزام 

آئی ایم ایف نے کہا کہ مالی سال 2026 میں سرمایہ کاری معیشت کا 0.5 فیصد ہوسکتی ہے، مالی سال 2025 میں سرمایہ معیشت کا 0.6 فیصد تھی، مالی سال 2026 میں زرمبادلہ ذخائر 17.8 ارب ڈالر ہو سکتے ہیں جو 2025 میں 14.5ارب ڈالر تھے۔

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: مالی سال 2025 میں مالی سال 2026 میں ا ئی ایم ایف نے کہ مالی سال کا امکان ہے معیشت کا فیصد تک کی شرح نے کہا

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی