مسیحی ملازمین کو بڑی خوشخبری سنادی گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
سٹی 42 : بلوچستان حکومت کی جانب سے مسیحی ملازمین اور پنشنرز کیلئے دسمبر کی تنخواہیں اور پنشن معمول سے قبل جاری کرنے کا اعلان کردیا گیا۔
بلوچستان حکومت نے صوبے بھر کے مسیحی ملازمین اور پنشنرز کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے دسمبر 2025 کی تنخواہیں اور پنشن پیشگی جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ وہ 25 دسمبر کو آنے والے کرسمس کے تہوار کی تیاری باآسانی کر سکیں۔ اس حوالے سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ تنخواہیں اور پنشن جو معمول کے مطابق یکم جنوری 2026 کو جاری ہونی تھیں، اب 22 دسمبر 2025 کو ادا کی جائیں گی۔
سوشل میڈیا کیلئے رِیل بنانے والا نوجوان 50 فٹ بلندی سے گر کر ہلاک
بلوچستان میں دیگر حصوں کی طرح کرسمس مذہبی و ثقافتی اہمیت رکھتا ہے، اور پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی سے مسیحی ملازمین کیلئے تہوار منانا مزید سہل ہو جائے گا۔ قبل از وقت ادائیگی سے مسیحی خاندان تہوار کی تیاریوں، تحائف کی خریداری اور دیگر روایتی سرگرمیوں کو زیادہ آسانی سے انجام دے سکیں گے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی تعطیلات کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے تحت 25 دسمبر 2025 کو یومِ قائد اعظم اور کرسمس کے موقع پر عام تعطیل ہوگی، جبکہ 26 دسمبر کو مسیحی ملازمین کے لیے خصوصی کرسمس کی چھٹی دی جائے گی۔
دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مسیحی ملازمین
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔