وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی : فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز ہوگیا۔
انسداد دِہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی استدعا منظور کرلی۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ 4 نومبر سے بانیٔ پی ٹی آئی کو آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔
مینا آفریدی اور ڈاکٹرامجد کے خلاف بھی اشتہاری قرار دینےکی کارروائی کا آغاز ہوگیا، تھانا نون کے انسپکٹر عبد القادر نے وزیراعلیٰ کے پی و دیگر کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست دی۔
درخواست میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی و دیگر کیخلاف 26 نومبر کے احتجاج کا مقدمہ درج ہے، عدالت کی جانب سے متعدد بار طلب کرنے کے باوجود ملزمان پیش نہیں ہوئے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کا کہنا ہے کہ عدالت مطمئن ہے ملزمان جان بوجھ کر گرفتاری سے بھاگ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کو اشتہاری قرار دینے کی سہیل آفریدی وزیر اعلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔