گیارہویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس، مالیاتی امور پر ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
گیارہویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس، مالیاتی امور پر ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) 11 ویں قومی مالیاتی کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں مالیاتی امور کو آگے بڑھانے کے لیے ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں سندھ اور کے پی کے وزرائے اعلیٰ بطور صوبائی وزیر خزانہ شریک ہوئے جبکہ پنجاب اور بلوچستان کے وزرائے خزانہ اور پرائیوٹ ممبران اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس میں وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے اپنی مالی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس میں چاروں صوبوں نے بھی اپنی مالی پوزیشن پر بریفنگ دی، وزیرخزانہ نے وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائے خزانہ، سیکرٹریز اور دیگر ارکان کا اجلاس میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آج کا اجلاس آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے، فورم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 150 کے تحت قائم کیا گیا تھا، اس پس منظر میں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، وفاقی حکومت کا واضح اور پُختہ عزم تھا کہ 11ویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس کسی تاخیر کے بغیر بلایا جائے، وزیراعظم نے خود اس بات میں گہری دلچسپی لی کہ یہ اجلاس جلد از جلد ہو، صوبوں نےبھی اس آئینی ذمہ داری کو بروقت ادا کرنے کا بھرپور ارادہ ظاہر کیا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث یہ اجلاس مؤخر کرنا پڑا، این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں، خدشات کا حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے، آج ہم یہاں کھلے ذہن اور بغیر کسی تعصب کے موجود ہیں، ہماری پہلی ترجیح ایک دوسرے کی بات سننا ہے، وفاقی حکومت یہاں صوبوں کے مؤقف کو سننے کے لیے موجود ہے، امید ہےکہ صوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط انتہائی قابلِ قدر ہے، یہ ہمارے مشترکہ عزم اور قومی مفاد میں مل کر کام کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے، صوبوں کا لازمی سرپلسزکے حصول، آئی ایم ایف پروگرام پرعملدرآمد یقینی بنانے پرتعاون قابلِ تحسین ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سال ملک کو بھارت کی جانب سے غیر معمولی خطرات اور سیلابوں جیسے چیلنجز کاسامناکرنا پڑا، ان کٹھن حالات میں ہم ایک مضبوط وفاق کی صورت میں متحد کھڑے رہے، یہی وہ جذبہ ہے جسے ہم 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے عمل میں بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں، آنےوالے ہفتوں اورمہینوں میں یہ بامقصد اور تعمیری مباحث جاری رہیں گے، امید ہےتمام اراکین بامعنی اورجامع مکالمے کیلیےبھرپورعزم کےساتھ آگے بڑھیں گے، باہمی اتحاد، تعاون اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھائیں گے، 11ویں این ایف سی ایوارڈکےمعاملات کو کامیابی سے پائیہ تکمیل تک پہنچانا ہماری منزل ہے۔
این ایف سی کا آئندہ اجلاس 8 یا 15 جنوری کو ہوگا
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں 6 سے 7 ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سابق فاٹا کے معاملے پر بھی الگ ورکنگ گروپ بنایا جائے گا، این ایف سی کا اگلا اجلاس 8 یا 15 جنوری کو ہوگا۔
اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ گروپس بنیں گے جو مالیاتی امور کو لے کر آگے بڑھیں گے۔
وزارت منصوبہ بندی کی تجویز
علاوہ ازیں وزارتِ منصوبہ بندی نے وسائل کی تقسیم کے دو نئے طریقہ کار پر تجاویز وزیراعظم کو پیش کردی ہیں، پہلی تجویز قابل تقسیم محاصل سے دہشتگردی کے خلاف جنگ، واٹرسکیورٹی، سول آرمڈ فورسز اور آزاد کشمیر وگلگت بلتستان کے گرانٹس کے لیے ڈھائی فیصد کٹوتی کی ہے جس کے بعد ساڑھے 57 فیصد صوبوں اور ساڑھے 42 فیصد وفاق کو ملے گا۔
دوسری تجویز کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اخراجات قابل تقسیم محاصل سے پہلے نکال لیے جائیں جس سے 2030 تک وفاق کے وسائل میں 11 سے 12 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
صوبوں کے درمیان این ایف سی کی تقسیم میں آبادی کا وزن کم کرکے ریونیو جنریشن، زرخیزی اورForest Cover جیسے عوامل کو بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسلم لیگ ق کے رہنما وزیر محمد اسحاق کا سکردو حلقہ 4 روندو سے باقاعدہ الیکشن لڑنے کا اعلان پاکستان اپنی بندرگاہوں کے ذریعے کرغزستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کیلئے تیار ہے، وزیراعظم نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکی کرغزستان کے صدر سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ امریکا میں گرفتار مبینہ پاکستانی دراصل افغان شہری نکلا، دفتر خارجہ کی وضاحت متنازع ٹویٹس کیس میں نیا موڑ، اہم شخصیت کا ایمان اور ہادی کی وکالت کرنے کا فیصلہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم، جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق پنجاب میں دھند کا راج برقرار، موٹر وے ایم 5 اوچ شریف سے ظاہر پیر تک بندCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بنانے کا فیصلہ ایف سی کا ا افتتاحی اجلاس مالیاتی امور اجلاس میں ا اجلاس کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔