وزیر خزانہ کی زیرصدارت گیارہواں این ایف سی اجلاس جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر خزانہ کی زیرصدارت گیارہواں این ایف سی اجلاس جاری ہے، جس میں چاروں صوبوں کی بھی نمائندگی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے قومی وسائل کی صوبوں میں تقسیم کا نیا فارمولا طے کرنے کے لیے قائم کردہ گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس شروع ہوگیا، جس کی صدارت چیئرمین کمیشن وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کرررہے ہیں۔
اجلاس میں چاروں صوبوں سمیت قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے دیگر ارکان بھی شریک ہیں، جس میں تین نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جا رہا ہے۔ این ایف سی اجلاس میں وفاق سمیت چاروں صوبے مالیاتی پوزیشن کے بارے میں پریزینٹیشن دیں گے ۔
اجلاس میں نئے ایف ایف سی ایوارڈ کے لیے قومی مالیاتی کمیشن کے آئندہ اجلاسوں کا شیڈول بھی طے کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف سی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔