وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کیلئے قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا گیارہویں اجلاس آج ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اجلاس کی صدارت کریں گے، نئے این ایف سی ایوارڈ پر آئی ایم ایف بھی آن بورڈ رہے گا۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ، ٹیکنوکریٹس اور کمیشن کے ممبر شریک ہوں گے، پنجاب سے ناصر محمود کھوسہ، سندھ سے اسد سعید کمیشن میں شریک ہوں گے، بلوچستان سے محفوظ خان، کے پی سے مشرف رسول ممبر شریک ہوں گے، اجلاس میں شرکت کیلئے تمام این ایف سی ارکان کو دعوت دی گئی ہے، این ایف سی اجلاس میں وفاقی سیکرٹری خزانہ کمیشن آفیشل ایکسپرٹ ہوں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایوارڈ سے متعلق سفارشات، ذیلی گروپس قائم کرنے کا جائزہ ایجنڈے کا حصہ ہے، مستقبل کے اجلاسوں کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اجلاس میں پاکستان فرسٹ کے جذبے سے بیٹھیں گے، صوبوں کی بات سنیں گے اور اپنی صورتحال صوبوں کے سامنے رکھیں گے۔
واضح رہے کہ موجودہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ جولائی 2010 سے نافذ ہے، آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد این ایف سی پر نظرثانی لازم ہے، لیکن 2015 میں شیڈول اجلاس اب تک نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت این ایف سی اجلاس کی تیاری کے لئے اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو این ایف سی سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی، این ایف سی سے متعلق صوبے کے مالی اور آئینی حقوق پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے ہر فورم پر بھرپور جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سابق فاٹا کا انتظامی انضمام ہو چکا ہے مگر مالی انضمام اب تک نہیں ہوا، این ایف سی کی مد میں سابق فاٹا کے انضمام سے اب تک ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے بنتے ہیں جو نہیں دیئے جا رہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے انضمام کے وقت 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جو اب تک 700 ارب روپے بنتے ہیں، اس مد میں 700 ارب روپے میں سے وفاق نے صرف 168 ارب روپے دیئے جبکہ 531.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایف سی صوبوں کے ارب روپے ہوں گے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں