این ایف سی اجلاس، ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں کا 5فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 4 December, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)گیارہویں این ایف سی اجلاس میں وسائل کی تقسیم پر ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وفاق نے مالی مطالبات کے بجائے صوبوں سے اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں جس پر سندھ نے تفصیلات دینے سے انکار کردیا، صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کی بات نہیں ہوئی مگر ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں کا 5 فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی۔
تفصیلات کے مطابق گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں سندھ اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلی بطور صوبائی وزیر خزانہ شریک ہوئے جب کہ بلوچستان اور پنجاب کے وزرائے خزانہ اور پرائیویٹ ارکان بھی اجلاس میں شریک تھے۔قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے وفاقی مالی معاملات پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد چاروں صوبوں کی جانب سے بھی صوبائی مالی صورت حال پر اجلاس کے شرکا کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے ورکنگ گروپ قائم کیا جائے، صوبوں میں ٹیکس وصولی کے معاملے پر بھی ورکنگ گروپ قائم ہوگا، سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام اور فنڈز کے تعین پر گروپ بنے گا۔وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے معاملے پر اٹارنی جنرل سے رائے لینے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی حکومت نے مالی مطالبات کے بجائے صوبوں سے اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں تاہم این ایف سی اجلاس میں سندھ نے وفاق کو اخراجات کی تفصیل دینے سے انکار کردیا، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے موقف پیش کیا کہ یہ ریونیو کا فورم ہے اخراجات کا نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے فی الحال صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کی بات نہیں کی مگر ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں میں سے پانچ فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی۔گیارہویں این ایف سی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے وزرائے اعلی، صوبائی وزرائے خزانہ، سیکرٹریز اور دیگر ارکان کا شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ اجلاس ہمارے لیے آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے۔
وزیر خزانہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ معزز فورم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 150 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ 10ویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت 21 جولائی 2025 کو پوری ہو چکی ہے۔ اس پس منظر میں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کا واضح اور پختہ عزم تھا کہ 11ویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس کسی تاخیر کے بغیر بلایا جائے۔ وزیراعظم نے خود اس بات میں گہری دلچسپی لی کہ یہ اجلاس جلد از جلد ہو۔انہوں نے کہا کہ صوبوں نے بھی اس آئینی ذمہ داری کو بروقت ادا کرنے کا بھرپور ارادہ ظاہر کیا۔ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث یہ اجلاس مخر کرنا پڑا۔ این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا بہترین حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے۔ آج ہم یہاں کھلے ذہن اور بغیر کسی تعصب کے موجود ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں 15مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں 15مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط فیک نیوز الرٹ ، چیف آف ڈیفنس فورسز کا جعلی نوٹیفکیشن وائرل ، سب نیوز حقیقت سامنے لے آیا بلوچستان حکومت کا بیرون ملک موجود کالعدم تنظیموں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ سعودیہ نے پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کردی گیارہویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس، مالیاتی امور پر ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ مسلم لیگ ق کے رہنما وزیر محمد اسحاق کا سکردو حلقہ 4 روندو سے باقاعدہ الیکشن لڑنے کا اعلان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں ایف سی اجلاس افتتاحی اجلاس ورکنگ گروپ اجلاس میں کے درمیان صوبوں کے کا فیصلہ سب نیوز کیا گیا

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان