گیارہواں این ایف سی اجلاس کل طلب، وفاق اور صوبوں کی مالی پوزیشن زیرِ غور آئے گی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
وفاقی وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا اجلاس کل منعقد ہوگا جس کے لیے باضابطہ ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔ اس اہم اجلاس کی صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کریں گے۔
مزید پڑھیں: نئے صوبوں کا قیام، این ایف سی ایوارڈ فارمولے میں تبدیلی، رانا ثنااللہ کھل کر بول پڑے
اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے خزانہ کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے نامزد اراکین بھی شریک ہوں گے۔
اجلاس کا پہلا حصہ وفاق کی مالی صورتحال پر بریفنگ سے شروع ہو گا، جو وفاقی سیکریٹری خزانہ پیش کریں گے۔ ایجنڈے کے مطابق وفاقی وزارتِ خزانہ اپنی معاشی حیثیت سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔
این ایف سی کے لیے طے کیے گئے نکات میں یہ بھی شامل ہے کہ صوبوں کو اپنی مالی پوزیشن پر الگ الگ 10، 10 منٹ کی بریفنگ دینے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد آئندہ اجلاسوں کا شیڈول اور این ایف سی ایوارڈ کی ٹائم لائنز بھی طے کی جائیں گی۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ اس اجلاس میں صوبوں کے خیالات کو پورے احترام سے سنا جائے گا اور وفاق بھی اپنی مالی صورتحال کھل کر سامنے رکھے گا۔
مزید پڑھیں: این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی، وزیراعظم شہباز شریف نے بڑا اعلان کردیا
ان کا کہنا تھا کہ تمام فریق ’پاکستان فرسٹ‘ کے جذبے کے ساتھ گفتگو میں حصہ لیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews این ایف سی اجلاس قومی مالیاتی کمیشن محمد اورنگزیب وزیر خزانہ وفاقی وزارت خزانہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این ایف سی اجلاس قومی مالیاتی کمیشن محمد اورنگزیب وفاقی وزارت خزانہ وی نیوز ایف سی
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔