نوازشریف کی مشاورت سے ترامیم ہوئی، رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد :وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ نوازشریف پاکستان کے سینئر ترین سیاستدانوں میں شامل ہیں اور وہ صرف وہی بات کرتے ہیں جسے درست سمجھتے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ موجودہ آئینی ترامیم نوازشریف کی مشاورت سے کی گئی ہیں اور چیف آف دی ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے کوئی اختلافات نہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس کا عہدہ ختم ہونے کے بعد نوٹیفکیشن ضروری نہیں تھا کیونکہ یہ ایک نیا ادارہ اور نیا عہدہ ہے، جس کے لیے آئینی ترمیم کی گئی ہے، سی ڈی ایف کی سفارش پر ہی وائس چیف آف آرمی اسٹاف تعینات ہوگا اور نوٹیفکیشن کے حوالے سے وزیراعظم آفس ہی تفصیل بتا سکتا ہے، توقع ہے کہ اگلے دو سے چار دن میں نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔
رانا ثنااللہ نے بانی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے متعلق بھی کہا کہ کسی قیدی کے ساتھ ان کی فیملی اور وکلا کی ملاقات کی مخالفت نہیں کی جاتی، مگر ملاقاتوں کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے، بانی پی ٹی آئی نے ملاقاتوں کے ذریعے غیر ملکی اخبارات میں مضامین شائع کروائے اور احتجاجی پروگراموں کے لیے ملاقاتیں استعمال کیں، جس کی وجہ سے گزشتہ 26 نومبر اور 9 مئی کے پیش نظر ملاقات کی اجازت محدود رکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کل بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات ہوئی، مگر وہاں ہوئی گفتگو حکومت کے خلاف رہی، حکومت کسی بھی قیدی کو سہولیات دینے کے معاملے میں جیل سپرنٹنڈنٹ سے مشورہ کر سکتی ہے، نوازشریف نے کبھی بھی بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی منفی بیان نہیں دیا اور نہ ہی ان کی گرفتاری کی بات کی۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ نوازشریف ہمیشہ مکافات عمل اور ملک کی ترقی پر یقین رکھتے ہیں اور وزیراعظم نے تین بار فلور آف دی ہاؤس پر مذاکرات کی پیشکش کی جبکہ ڈیڈلاک ہمیشہ ڈائیلاگ سے دور رہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔