چیف آف ڈیفنس کے نوٹی فیکیشن کے معاملے پر بالکل بھی اختلاف نہیں ہے، نوٹیفکیشن 3 سے 4 دن میں جاری ہوگا: رانا ثناءاللہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کی تقرری کے حوالے سے کسی قسم کا اختلاف یا تنازع موجود نہیں۔ نجی نیوز چینل کے پروگرام میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک نیا عہدہ ہے جو حالیہ آئینی ترمیم اور نئی قانونی فریم ورک کے تحت تشکیل دیا گیا ہے، اسی لیے اس کے قواعد و ضوابط کی منظوری میں کچھ وقت لگ رہا ہے۔
رانا ثناءاللہ نے میڈیا کی قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہCDF کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے غیر ضروری بحث جاری ہے۔ وزیراعظم کے متعلقہ دفتر نے اس معاملے پر نہ کوئی وضاحت جاری کی ہے اور نہ ہی ایسا کرنا مناسب سمجھا ہے۔ میری رائے میں نوٹیفکیشن آئندہ تین سے چار روز میں جاری ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو چند دن صبر کرنا چاہیے، جلد ہی اس حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آ جائے گا۔
راجن پور میں بچہ آوارہ کتے کے حملے سے جاں بحق ،وزیر اعلیٰ کا نوٹس ، ڈی سی سےرپورٹ طلب
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔