27ویں ترمیم نواز شریف کی مشاورت سے ہوئی، چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پر اختلاف ہو ہی نہیں سکتا، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم نواز شریف کی مشاورت سے ہوئی، چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پر اختلاف ہو ہی نہیں سکتا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر ہی وائس چیف آف آرمی اسٹاف تعینات ہوگا۔
مزید پڑھیں: نواز شریف چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن میں رکاوٹ نہیں، رانا ثنااللہ کی وضاحت
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگلے 2 سے 4 روز میں چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن آنا چاہیے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ نواز شریف کا شمار ملک کے سینیئر ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے، اور وہ وہی بات کرتے ہیں جسے درست سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کسی قیدی کے ساتھ اس کی فیملی اور وکلا کی ملاقات کی ہم مخالفت نہیں کرتے، کل عمران خان سے ان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات ہوئی ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ کل کی ملاقات میں عمران خان نے عظمیٰ خان کا حال بھی نہیں پوچھا، وہاں پر جتنی گفتگو ہوئی وہ حکومت کے خلاف تھی، اب حکومت کیسے ان باتوں کی اجازت دے سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ’فیلڈ مارشل کی چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی مدت ملازمت کا آغاز ہوگا‘
انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے کبھی بھی عمران خان سے متعلق بات نہیں کی، نہ ہی کبھی مطالبہ کیاکہ عمران خان کو گرفتار ہونا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف ا ف ڈیفنس فورسز انہوں نے کہاکہ رانا ثنااللہ کے نوٹیفکیشن نواز شریف
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔