نوجوان پاکستان کا مستقبل، عوامی امپاورمنٹ گڈ گورننس کا بنیادی عنصر ہے، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل نوجوان ہیں آپ کی رائے سے مزید بہتری کے اقدامات کریں گے۔
وفاقی دارالحکومت میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بہت سے مسائل کا حل اِسی کے تحت ہوسکتا ہے، دنیا میں سلیبس بنتے ہیں تو یونیورس کے تحت بنتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ملک میں تعلیم کا نظام یکساں ہو، کورونا کے اندر ہماری معیشت کو بہت جھٹکا لگا، چاہتے ہیں ملک میں تعلیم کا نظام یکساں ہو،آج کل کے دور میں ٹیکنالوجی کا بہت کردار ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے، ہم آپ کی رائے سے بہتری کیلئے کوشش کریں گے، کوشش کی ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ایسی ریفارمز لائی جائیں جہاں ہیومن اٹریکشن کم ہو۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ گورننس کی ریفارمز کی بات کرتے ہیں تو اس میں بھی ٹیکنالوجی کا بہت اہم رول ادا کیا ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایسا شعبہ ہے جس کا کام ٹیکس کلیکشن کرنا ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کے 2سے 3سسٹم دیکھے اُن کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا، جب تک لوکل گورنمنٹ کے سب سے کم ٹیئر کو امپاور نہیں کریں گے گورننس میں تبدیلی لانا ممکن نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ عطا تارڑ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔