خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کی ایک بڑی کارروائی کا منصوبہ اس وقت بے نقاب ہوگیا جب سیکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز مواد کا وسیع ذخیرہ دریافت کیا ہے۔ فورسز نے فوری طور پر ڈی مائننگ آپریشن شروع کیا جس کے دوران متعدد علاقے عوام کے لیے محفوظ بنا دیے گئے۔خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی پھیلانے اور سیکیورٹی فورسز کی پیش قدمی روکنے کی ایک سنگین سازش سامنے آئی ہے۔ خوارج عناصر نے 114 مربع کلومیٹر رقبے میں بارودی مواد اور سرنگوں کا بڑا نیٹ ورک بچھا رکھا تھا۔ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں ڈی مائننگ آپریشن کا آغاز کیا .

جس کے دوران اب تک 82 مربع کلومیٹر علاقہ مکمل طور پر کلیئر کردیا گیا ہے.تاکہ عوام اور سفر کرنے والے شہریوں کو کسی بھی ممکنہ حادثے سے محفوظ رکھا جاسکے۔آپریشن کے دوران بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے کا عمل انتہائی حساس اور خطرناک ثابت ہوا۔ ترجمان کے مطابق ڈی مائننگ کے دوران پاک فوج کے پانچ جوان شہید ہوگئے جبکہ 115 اہلکار دھماکوں کے باعث ہاتھ یا پاؤں سے محروم ہو چکے ہیں۔سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ علاقے کو دھماکا خیز مواد سے پاک کرنا نہ صرف دہشتگردی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے. بلکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔ فورسز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ بقیہ علاقوں کو بھی جلد از جلد کلیئر کرکے قیام امن کو یقینی بنایا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز فورسز نے کے دوران کے لیے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار