پاک فوج کا قبائلی علاقوں میں خوارج کے چھوڑے گئے بارودی مواد اور سرنگوں کو تلف کرنے کا عمل جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاک فوج کی جانب سے قبائلی علاقوں میں خوارج کے چھوڑے گئے بارودی مواد اور سرنگوں کو تلف کرنے کا عمل جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وار آن ٹیرر کے دوران خیبر پختونخوا میں خوارج نے وسیع پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھائیں، خوارج نے سیکیورٹی فورسز کا راستہ روکنے کے لیے قبائلی علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔
خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر ڈی مائننگ کا عمل شروع کیا۔ افواجِ پاکستان کے بہادر جوان اپنی جانوں پر کھیل کر علاقے کو بارودی سرنگوں اور گولہ بارود سے پاک کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کل 114 مربع کلومیٹر علاقے میں بارودی مواد اور سرنگوں کی نشاندہی کی گئی تھی، اب تک 82 مربع کلومیٹر علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کیا جا چکا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن فتنہ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں باقی ماندہ علاقے کی ڈی مائننگ پر شب و روز کام جاری ہے، ڈی مائننگ کی ان پُرخطر کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے 5 جوان شہید اور 115 جوان معذور ہو چکے ہیں۔
پاک فوج کی جانب سے علاقوں کو بارودی مائننگ سے پاک کرنے کا مقصد عوام کو حادثات سے محفوظ رکھنا ہے، اکثر اوقات نادانستگی میں علاقے کے بچے اور نوجوان بارودی مواد سے کھیلتے ہوئے حادثات کا شکار ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 26 نومبر کو باجوڑ کی تحصیل خار کے گاؤں جنت شاہ میں 2 نوجوان خوارج کے چھوڑے گئے بارودی مواد پھٹنے سےجاں بحق ہوئے۔ لکی مروت اور کئی دیگر علاقوں میں ایسے حادثات پیش آ چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں بارودی مواد علاقوں میں پاک فوج
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔