جبری مشقت کے خاتمے کے اقدامات پر امریکی کانگریسس نے مریم نواز کو اعزازی خط لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
امریکی کانگریس ارکان نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نام خط لکھا ہے جس میں اینٹوں کے بھٹوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر مریم نواز کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے ۔ کانگریس ارکان کا کہنا ہے کہ اینٹوں کے بھٹوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا مقصد ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ اور جبری مشقت کا خاتمہ ہے ۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے نام خط میں کانگریشنل پاکستان کاکس کا کہنا ہےکہ بھٹہ انڈسٹری میں ساڑھے چار ملین سے زائد افراد پیشگی نظام میں جکڑے ہیں۔ غیر منصفانہ مزدوری کا یہ طریقہ صدیوں سے جنوبی ایشیا میں رائج ہے ۔امریکی کانگریس ارکان کے خط میں کہا گیا کہ ہمیں مائیک برکلے اور ڈاکٹر روبینہ فیروز نے پنجاب انتظامیہ کے اس انقلابی اقدام سے آگاہ کیا ہے ۔ بھٹو ں کی صنعت میں جدت سے جبری مشقت کے خاتمے کی عالمی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مدد ملے گی۔خط میں کہا گیا کہ یہ عمل پنجاب کو بیرونی سرمایہ کاری اور امریکی کاروباری اداروں کے لیے زیادہ پرکشش بنا ئے گا۔خط میں کہا گیا کہ یہ پیش رفت پاک امریکا پارٹنرشپ کی مضبوطی کیلئے بھی بہت اہم ہے۔ صوبہ پنجاب اس منصوبے کا پائلٹ ہے ۔بھٹوں کی جدت سے انسانی حقوق کے امور میں بھی بہتری آئے گی اورپاکستان لانگ ٹرم بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بھی زیادہ پرکشش بن جائے گا۔امریکی کانگریس ارکان کے خط میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کاکس جبری مشقت کے خلاف ایسے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے، حکومت پنجاب کے اس اقدام سے پاک امریکا اقتصادی تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: امریکی کانگریس کانگریس ارکان کہا گیا کہ مریم نواز
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔