اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں اکھاڑ پچھاڑ، سیدہ شفق جوائنٹ سیکریٹری تعینات
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے تمام اہم جوائنٹ تمام افسران تبدیل کردیے۔
سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بیرسٹر نبیل احمد اعوان نے وزیراعظم کی اپروول سے اپنی ٹیم تشکیل دی ہے ،سیدہ شفق ہاشمی جوائنٹ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تعینات کر دی گئیں۔
ایڈمنسٹریٹو سروس گریڈ 19 کی سیدہ شفق ہاشمی جوائنٹ سیکریٹری سینیٹ سیکریٹریٹ خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔
جوائنٹ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نائلہ باقر کی خدمات ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے سپرد کر دی گئیں۔
جوائنٹ سیکریٹری تخفیف غربت ماجد علی پہنوار جوائنٹ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، ڈپٹی سیکریٹری تخفیف غربت عامر حسین غازی سیکشن 10 کے تحت جوائنٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سندھ حکومت میں تعینات گریڈ 18 کے پیار علی لاکھو ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکشن افسر وزارت داخلہ شیریں حنا اصغر سیکشن 10 کے تحت ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تعینات کر دیٔے گئے۔
جب کہ جوائنٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن راجہ راشد علی جوائنٹ سیکرٹری تخفیف غربت وسماجی بہبود ڈویژن مقرر کر دیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جوائنٹ سیکریٹری
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔