Islam Times:
2026-06-03@05:33:13 GMT

مقاومت فاطمی، از مدینہ تا بیت المقدس

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

مقاومت فاطمی، از مدینہ تا بیت المقدس

اسلام ٹائمز: ایسی صورتحال جس میں سیدہ زہرا س نبیوں، پیغمبروں، رسولوں جیسی ذمہ داری ادا کرتی نظر آرہی ہیں۔ وہ ذمہ داری کہ اگر ادا نہیں ہوئی تو کار رسالت ادھورا رہ جائے گا۔ ایسی کون سی اہم ذمہ داری ہے جو ادا کی جانی ہے؟ اپنے ابن عم کو بچانا ہے؟ اپنے شوہر کو حاکم سے آزاد کروانا ہے؟ اپنے بچوں کے باپ کو نجات دلوانی ہے؟ نہیں! سیدہ کی شخصیت ان چیزوں سے کہیں بلند ہے! سیدہ وقت کے امام کی مطیع ہیں۔ تحریر: حجت الاسلام والمسلمین یوشع ظفر حیاتی    امام عصر والزمان عج سے منسوب ایک حدیث نظر سے گذری۔ آپ ایک خط میں فرماتے ہیں کہ وفی ابنة رسول صلی اللّٰه علیه و آله لی اسوة حسنة۔ رسول اللہ ص کی بیٹی کی سیرت میرے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ کتنی عظیم حدیث ہے ! کتنی حکمتوں بھری بات ہے! یقیینا ایسا ہی ہے کیونکہ امام معصوم حکمت کے سوا گفتگو کرتا ہی نہیں ہے۔ دور حاضر میں اس دنیا کے حالات کا بغور مشاہدہ کرنے سے امام عج کی اس حدیث کا کچھ کچھ معنیٰ سمجھ آہی جاتا ہے۔ ایسا دور کہ جب ہر طرف کشمکش پھیلی ہوئی ہو۔ جہاں ہر طرف مسائل اور مشکلات کے تا حد نگاہ انبار موجود ہوں۔ اس دور میں کسی ایسے کی تلاش کرنا ضروری ہے جو دنیا کو اس دلدل سے باہر نکال سکے۔ جو دنیا کو صحیح سمت گامزن کرسکے۔ جو دنیا سے نا امیدی ختم کرکے اسے امید کی جانب لاسکے۔ اور یہ کام بس وہی کرسکتا ہے کہ جو ان تمام مسائل و مشکلات پر فائق آسکے بلکہ یوں کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ کسی ایسے کی ضرورت ہے جس کی مبارک انگلیاں ان گتھیوں کو کمال مہارت کے ساتھ سلجھا سکے۔ 
  مسلک جعفریہ سے تعلق رکھنے والا تو ہر شخص ہی دن رات اس حلال مشکلات کے آنے کی امید پر سانسیں لے رہا ہے اور اپنی ہر نماز میں جب بھی دست دعا بلند کرتا ہے تو اپنی دیگر دعاؤں کے ساتھ یہ دعا ضرور کرتا ہے: اللھم عجل لولیک الفرج۔ اس حلال مشکلات، ابن مشکل کشاء کے آنے کی تیاری کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ ظہور کے لئے زمینہ فراہم کریں اور ہر میدان میں اپنے آپ کو اتنا تیار کرلیں جتنا تیار ہونے کا حق ہے۔ جب ہمارے امام عج اپنے لئے اپنی جدہ کو نمونہ عمل قرار دے رہے ہیں تو اس کی حکمت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ ایسی کون سی خصوصیت ہے جس کی بنا پر اپنے سے پہلے موجود گیارہ اماموں کو نمونہ عمل قرار دینے کے بجائے اپنی جدہ فاطمہ س کو نمونہ عمل قرار دے رہے ہیں؟.

 شاید سیرت حضرت فاطمہ زہرا س کی سب سے اہم اور واضح خصوصیت ولایت کی راہ میں انکی مقاومت اور حق کی راہ میں استقامت تھی جسے انجام دینے لئے بی بی زہرا س نے دن رات ایک کردیئے یہاں تک کے اپنے فرزند کی قربانی دی اور پھر کچھ دن بعد ہی اپنی جان بھی جان آفرین کے سپرد کردی۔ 
  ہم میں سے ہر ایک نے ایام فاطمیہ میں مصائب تو سن رکھے ہیں کہ جلتے ہوئے دروازے اور حبشی غلاموں کے زور بازو نے سیدہ کو در و دیوار کے بیچ مسل کررکھ دیا، جناب محسن شہید ہوگئے اور سیدہ بھی چہرے پر طمانچوں کے نشان لئے اور ٹوٹی ہوئی پسلیوں کا ناقابل برداشت درد لئے چند ہی دنوں میں اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر یہ درد ناقابل برداشت تھا تو پھر جب امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ اسلام کو گھر کے اندر سے گلے میں رسی ڈال کر مدینے کی گلیوں میں گھسیٹنے لگے تھے اسوقت سیدہ میں قوت و طاقت کہاں سے پیدا ہوگئی کہ وہ حاکم کے دربار تک گئیں اور امام وقت کو چھڑا کر واپس گھر لے آئیں؟. ایک ایسی صورتحال جس میں سیدہ زہرا س نبیوں، پیغمبروں، رسولوں جیسی ذمہ داری ادا کرتی نظر آرہی ہیں۔ وہ ذمہ داری کہ اگر ادا نہیں ہوئی تو کار رسالت ادھورا رہ جائے گا۔ ایسی کون سی اہم ذمہ داری ہے جو ادا کی جانی ہے؟ اپنے ابن عم کو بچانا ہے؟ اپنے شوہر کو حاکم سے آزاد کروانا ہے؟ اپنے بچوں کے باپ کو نجات دلوانی ہے؟ نہیں! سیدہ کی شخصیت ان چیزوں سے کہیں بلند ہے!

سیدہ وقت کے امام کی مطیع ہیں۔ سیدہ کو اپنے والد محترم سے جو عظیم ذمہ داری ملی ہے انہوں نے اس ذمہ داری کو ادا کرنا ہے۔ اور وہ ذمہ داری ہے ولی اللہ کا دفاع، امام وقت کی حفاظت، نائب رسول کی ہمراہی۔ شاید سیدہ اپنے زخموں کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت نہ ہوئی ہوں لیکن ولی خدا کی تنہائی اور امت کی جانب سے امام وقت سے برتاؤ سیدہ برداشت نہ کرسکیں۔ یہ اتنا اہم کام اور ذمہ داری تھی کہ سیدہ بنفس نفیس مدینہ کی گلیوں میں نکل کر ایک ایک کا دروازہ کھٹکھٹا کر مدینہ والوں کو انحراف سے روکنے کی کوشش کرتی رہیں۔ سیدہ نے زخموں کی، تنہائی کی، بے مروتی کی تکلیفیں برداشت کرلیں لیکن امام وقت کا دفاع نہیں چھوڑا۔ پھر وہ فاطمہ س جنہیں اللہ نے کوثر کہہ کر مخاطب کیا ہو ان کا یہ عمل تاریخ کے اوراق میں کیسے چھپ سکتا تھا؟ اللہ نے سیدہ کے اس عمل کو بھی خیر کثیر بنا دیا اور دنیا نے دیکھا کہ سیدہ فاطمہ س نے جس محاذ مقاومت کی بنیاد رکھی اس کو سلسلہ ایک لمحے کے لئے بھی نہیں رکا۔

علی کے بیٹوں نے حق کے دفاع کے لئے مدینہ اور کربلا میں اپنی جانوں کا نذرانہ کیا پیش کیا دنیا کے کونے کونے میں حق پرستوں کے لئے حق کی خاطر اور باطل کے خلاف جان دینے کی رسم چل نکلی۔ ایران، شام، یمن، عراق، پاکستان، لبنان سمیت دنیا کے جس کونے میں بھی حق کی خاطر کسی کا خون بہے گا آپ اس کے بارے میں تحقیق کریں تو معلوم ہوگا کہ کسی نہ کسی طرح وہ سیدہ زہرا س کے گھرانے کا عاشق اور دلداہ ہے کیونکہ حق کا دفاع کرنے کی رسم اسی گھرانے سے نکلی ہے۔ آج حق اور باطل کی واضح لکیریں کھنچ چکی ہیں دشمن جتنا قوی اور اسکی حلیہ بازیاں اور مکاریاں جتنی بڑھ چکی ہیں مقاومت فاطمی کا محاذ بھی اتنا ہی وسیع ہوچکا ہے۔ یہ سلسلہ تا ظہور امام زمانہ عج بڑھتا چلا جائے گا۔ لیکن ضروری ہے کہ ہم از سیدہ تا دم امروز اس مقاومت فاطمی کے محاذ کی سرگرم شخصیات کی سیرت طیبہ سے آگہی حاصل کرکے اس پر عمل پیرا ہونے اور اس محاذ مقاومت کو مزید وسیع کرنے میں ممد و مددگار بننے کی کوشش کریں۔ 
  حالیہ دنوں اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس شہر قم میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے جو شاید اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کانفرنس کے اہداف و مقاصد دیکھ کر کچھ دل کو سکون ملا کہ چلو شہر علم سے کوئی علم و آگہی پر مشتمل کام تو ہوا اور بات رسمی، روایتی عزاداری، جلوس عزا اور نذر نیاز سے نکل کر کم از کم اس سطح پر تو آئی کہ ہم دو چار گھنٹے پورے انہماک کے ساتھ سیدہ زہرا س کی زندگی کی ناگفتہ بہ پہلوؤں پر کسی علمی تحقیقی سرگرمی کا مشاہدہ کرپائیں گے۔ کانفرنس میں کچھ اہم علمی شخصیات "مقاومت فاطمی از مدینہ تا بیت المقدس" کے عنوان پر گفتگو کررہے ہیں اور حاصل شدہ اطلاعات کے مطابق مقاومت فاطمی کے بعض اہم شہداء کے اہل خانہ کی قدردانی بھی کی جائے گی۔ مجھے علم ہوا کہ اس کانفرنس کے لئے اسی موضوع کے محور پر علمی مقالات لکھنے کا مقابلہ بھی رکھا گیا اور عصر حاضر کی اہم ضرورت یعنی شعر و ادب کا مقابلہ بھی کانفرنس میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ پہلے سال ہی یہ کانفرنس اپنے تمام تر اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن ہاں اتنا ضرور ہے کہ یہ ایک اچھی ابتدا ہے اور ایک اچھے حاصلخیز ہدف کی جانب بڑھتا ہوا محتاط اور اچھا قدم ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مقاومت فاطمی کے لئے

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق