مدینہ منورہ: سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے آنے والے بھارتی زائرین کی بس اور آئل ٹینکر کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 42 افراد ہلاک ہو گئے۔ واقعہ پیر کی صبح پیش آیا جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانے والے زائرین کی بس سڑک پر آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی، جس کے بعد دونوں گاڑیوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔

عرب میڈیا کے مطابق حادثے میں بس میں سوار مجموعی طور پر 42 سے 45 افراد زخمی اور جاں بحق ہوئے، جن میں 20 خواتین اور 11 بچے شامل تھے۔ بس میں سوار افراد بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتے تھے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی حکام نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی اور جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد اور آگ پر قابو پانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق واقعے کی تازہ ترین صورتحال، اقدامات اور امدادی کارروائیوں کی تفصیلات سے باخبر رہنے کے لیے سیکرٹریٹ میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جو متاثرین کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کو بھی معلومات فراہم کرے گا۔

بھارتی سیاستدان اسد الدین اویسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق حادثے میں 41 زائرین جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم سعودی حکام کی جانب سے تاحال رسمی اعلان یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

یہ واقعہ عمرہ زائرین کے لیے انتہائی المناک ہے اور سعودی حکام نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں میں تعاون کریں اور حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ

تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق