مدینہ کے قریب بھارتی زائرین کی بس کو حادثہ، 45 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
بھارت سے سعودی عرب جانے والے عمرہ زائرین کی بس آئل ٹینکر سے ٹکرانے کے نتیجے میں 45 افراد جاں بحق ہوگئے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بھارتی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حرمین شریفین کے قریب مدینہ میں پیش آنے والے ایک افسوسناک بس حادثے میں بھارتی زائرین شامل تھے۔
بھارتی وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ’ مدینہ میں بھارتی شہریوں سے متعلق حادثے پر بہت افسوس ہے، میری دعائیں اُن خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا‘۔
Deeply saddened by the accident in Medinah involving Indian nationals.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 17, 2025
ان کا کہنا تھا کہ میں زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں، ریاض میں ہمارا سفارتخانہ اور جدہ میں قونصلیٹ ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حادثے میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم حکام نے اب تک اموات کی حتمی تعداد جاری نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق عمرہ کے لیے سعودی عرب میں موجود زائرین پیر کی صبح ایک بس میں مکہ سے مدینہ منورہ جا رہے تھے جہاں ان کی بس ایک آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی جس کے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بس میں تقریباً 45 سے 46 افراد سوار تھے جن کا تعلق بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے تھا اور ان عمرہ زائرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، حادثے کے نتیجے میں تمام افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کے مقدس مقامات کے درمیان زائرین کی آمدورفت اکثر خطرناک ثابت ہوتی ہے، خاص طور پر حج کے دوران، جب شاہراہوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہوتا ہے اور بسوں کی قطاریں طویل جام کا سبب بنتی ہیں۔
لاکھوں افراد عمرہ کی ادائیگی کے لیے بھی سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں، جو حج کے علاوہ سال بھر جاری رہتا ہے۔
مارچ 2023 میں مکہ جانے والے زائرین کی ایک بس میں حادثے کے بعد آگ لگ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق اور 2 درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اکتوبر 2019 میں مدینہ کے قریب ایک بس اور بھاری گاڑی کے تصادم میں 35 غیر ملکی افراد جاں بحق اور چار زخمی ہوئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افراد جاں بحق زائرین کی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔