اسپیکر سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تعیناتی کا معاملہ اس وقت عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے اسمبلی عدالتی فیصلے سے قبل کوئی پیش رفت نہیں کرے گی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر سردار ایاز صادق نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ سابق اسپیکر اسد قیصر اور رکن اسمبلی عامر ڈوگر سے اس معاملے پر ملاقات بھی ہوئی ہے۔

اسپیکر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے قائدِ حزبِ اختلاف کی تعیناتی سے متعلق کیس پشاور ہائیکورٹ کو واپس بھیج دیا ہے، جہاں سماعت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی بنانے پر اتفاق

ایاز صادق  نے کہا کہ جیسے ہی عدالت فیصلہ دے گی، اسمبلی اس معاملے پر آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کرے گی۔

سردار ایاز صادق نے یہ بھی کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں کے بعد کئی ارکان کی اسمبلی رکنیت بحال ہوئی ہے۔

قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کی عدم شرکت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اپوزیشن کے غیر حاضر رہنے کے باوجود تمام قائمہ کمیٹیاں اپنا کام باقاعدگی سے کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: ن لیگ عمران خان کی رہائی کیوں چاہتی ہے، محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنا کس کے لیے پیغام؟

’کمیٹیوں کے اجلاس ارکان کی درخواست پر بلائے جا رہے ہیں اور پارلیمانی کارروائی متاثر نہیں ہو رہی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ قانون و انصاف سمیت مختلف کمیٹیوں میں اپوزیشن ارکان کو اپنی تجاویز پیش کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:

اسپیکر نے یاد دلایا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے دوران اپوزیشن کی کئی تجاویز کو حتمی قانون میں شامل کیا گیا تھا، جو پارلیمانی عمل میں اپوزیشن کے تعمیری کردار کی علامت ہے۔

ایاز صادق نے اپوزیشن ارکان پر زور دیا کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں بھرپور شرکت کریں تاکہ قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئینی ترمیم اپوزیشن اسپیکر سردار ایاز صادق قائد حزب اختلاف قائمہ کمیٹیاں قومی اسمبلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن اسپیکر سردار ایاز صادق قائد حزب اختلاف قائمہ کمیٹیاں قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کہا کہ

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن