27ویں آئینی ترمیم بل پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
سینیٹ وقومی اسمبلی کی قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ بل پر مزید غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز27ویں ترمیم ایکٹ 2025 کا بل وفاقی کابینہ سے منظوری کے چند گھنٹے بعد سینیٹ میں پیش کیا گیا، جس پر اپوزیشن نے مجوزہ تبدیلیوں کی رفتار اور دائرہ کار پر شور شرابہ کیا۔
اس بل میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام، ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے عمل میں تبدیلی، صوبائی کابینہ کے حجم میں اضافہ، اور فوجی قیادت کے ڈھانچے میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ چوہدری محمود بشیر ورک آج کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کر رہے ہیں۔
قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں ہائی کورٹ کے ججوں کی منتقلی کے طریقہ کار کو بھی حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے جو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کے ذریعے انجام پائے گا اور ممکنہ طور پر اس میں منتقل ہونے والے ججوں کی رضامندی درکار نہیں ہوگی۔
گزشتہ روز سینیٹ اجلاس کے دوران ہی کمیٹیوں نے بل پر غور کے لیے ایک ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بھی منعقد کیا، تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان، جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ایم این اے عالیہ کامران اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
قائمہ کمیٹیوں نے مجوزہ بل کا تقریباً 80 فیصد حصہ منظور کر لیا، جس میں عدالتی اصلاحات پیکیج کی زیادہ تر شقیں شامل تھیں۔
تاہم، آئین کے آرٹیکل 243 (مسلح افواج کی کمان) کے تحت فیلڈ مارشل کے عہدے کی حیثیت پر غور و خوض آج کے اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔
A joint meeting of the Senate and National Assembly Committees on Law & Justice, co-chaired by Senator Farooq H.
— ꜱᴇɴᴀᴛᴇ ᴏꜰ ᴘᴀᴋɪꜱᴛᴀɴ ???????? (@SenatePakistan) November 8, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے اجلاس
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔