کارتک آریان نے اپنی فٹنس کا راز بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
بھارتی اداکار کارتک آریان نے اپنی فٹنس کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ گوشت کے بجائے مکمل سبزیوں پر مبنی غذا کا استعمال کرتے ہیں۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو میں 34 سالہ کارتک نے اپنی صحت مند طرزِ زندگی کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔کارتک نے بتایا کہ ان کی فٹنس کا دارومدار مہنگی یا پیچیدہ ڈائیٹس پر نہیں بلکہ باقاعدگی سے سادہ خوراک کا استعمال اور روز مرہ کی زندگی میں نظم و ضبط پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی فٹنس برقرار رکھنے کے لیے قدرت سے حاصل ہونے والے غذائی اجزاء پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’میں نے ویجیٹیرین ڈائیٹ پر باڈی بنائی ہے، پنیر کھایا، اسپراؤٹس کا استعمال کیا، پلانٹ بیسڈ پروٹین لیا اور رات کو ایک سوپ پی کر سو جاتا تھا‘۔
اداکار نے مزید انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے ہر رات ایک ہی طرح کا ٹماٹر کا سوپ پیتے آرہے ہیں جو ان کی عادت بن چکی ہے۔ ان کے بقول ’یہ ایک روبوٹک روٹین بن گیا ہے۔ چھ مہینے سے وہی ٹماٹر کا سوپ پیتا ہوں، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی‘۔
کارتک آریان نے بتایا کہ ان کی متوازن اور صاف ستھری ڈائیٹ میں دالیں، ٹوفو، پنیر اور اسپراؤٹس شامل ہیں جو انہیں توانائی اور فٹنس برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔