data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251109-08-20
اسلام آباد (اے پی پی) وزارت بحری امور کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اتفاق کیاگیا ہے کہ پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ پر تمام جہازوں کو سختی سے پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر برتھ کیا جائے گا،شوگر کی کھیپوں کی سست ان لوڈنگ کی وجہ سے شدید رش کی رپورٹس کے بعد پورٹ قاسم پر شوگر اور سیمنٹ کی ہینڈلنگ آپریشنز کو ہموار کرنے کے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں صورتحال اور اس کے برآمداتی سرگرمیوں، خاص طور پر سیمنٹ اور کلنکر کی ترسیل پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری بحری امور سید ظفر علی شاہ، سیکرٹری کامرس جواد پال، چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی ریئر ایڈمرل (ر)سید معظم الیاس، قائم مقام چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل عتیق الرحمن، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید رفیع بشیر شاہ، ٹیکنیکل ایڈوائزر بحری امور کمانڈر (ر)محمد جواد اختر اور عارف حبیب کی قیادت میں سیمنٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سمیت سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنید انور چوہدری نے آپریشنل کارکردگی بڑھانے، پورٹ مینجمنٹ کو قومی لاجسٹکس ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان ہموار رابطہ کاری یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر نے تمام بندرگاہوں کو اپنی آپریشنل کارکردگی بڑھانے کی ہدایت کی تاکہ کھیپوں کی ہموار اور بروقت ان لوڈنگ یقینی بنائی جا سکے، اور نوٹ کیا کہ ان آپریشنز کو بہتر بنانا بندرگاہوں میں رش کو روکنے، تاخیر، لاگت میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ شوگر کی ان لوڈنگ بندرگاہ کی صلاحیت سے کم رفتار سے ہو رہی ہے۔ وزیر نے پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے)کو ہدایت کی کہ وہ روزانہ تقریباً 4,000 سے 4,500 ٹن کی ان لوڈنگ صلاحیت کے مطابق شوگر کی ان لوڈنگ آپریشنز کو بہتر بنائے۔ اجلاس میں وزیراعظم آفس کی ہدایات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں کراچی کے ٹرمینلز پر بوجھ کم کرنے کے لیے گوادر پورٹ کو شوگر کی درآمدات کو 60 فیصد تک استعمال کرنے کی ہدایت شامل تھی۔ شرکانے برتھنگ ترجیحات اور برآمداتی جہازوں کی ٹرن ارانڈ کو متاثر کرنے والے رکاوٹوں کو روکنے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں اتفاق ہوا کہ پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ پر تمام جہازوں کو سختی سے پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر برتھ کیا جائے گا۔ٹی سی پی کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی آپریشنل پلاننگ بہتر کرے، جہازوں کی آمد کا بہتر رابطہ کاری یقینی بنائے اور مستقبل میں رش سے بچنے کے لیے بندرگاہ اتھارٹیز کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھے۔دونوں بندرگاہ اتھارٹیز کو برتھنگ پالیسی نافذ کرنے اور ان لوڈنگ کی کارکردگی کی قریبی نگرانی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی، اور غیر ضروری تاخیر کی صورت میں جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ ایجنسیوں، بشمول ٹی سی پی اور دیگر سرکاری درآمد کنندگان کو، کارگو کی آمد سے قبل وزارت بحری امور کے ساتھ اپنے فریٹ موومنٹ پلانز کو ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے تمام شرکا کے تعمیری تعاون کی تعریف کی اور زور دیا کہ طے شدہ اقدامات اور کارکردگی کے معیارات پر مسلسل عمل درآمد بندرگاہوں کی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور اس طرح کی لاجسٹک رکاوٹوں کے دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے ضروری ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پورٹ قاسم اجلاس میں ان لوڈنگ ہدایت کی شوگر کی کے لیے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟