بنوں میں ڈی پی او شمالی وزیرستان کی گاڑی پر فائرنگ، 6 پولیس اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
میرانشاہ روڈ پر ممش خیل کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ڈی پی او شمالی وزیرستان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ پولیس کے مطابق ڈی پی او فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہے تاہم شمالی وزیرستان پولیس کے 6 اہلکار زخمی ہوگئے۔
مزید پڑھیں: بنوں میں خفیہ اطلاع پر مبنی کامیاب آپریشن، خوارج کے 2 اہم کمانڈر ہلاک
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر بنوں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کے بعد قریبی علاقوں میں فرار ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان بھی کہیں تو وہ دوبارہ وزیراعلیٰ نہیں بنوں گا، علی امین گنڈا پور
واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنوں بنوں ڈی ایچ کیو اسپتال ڈی پی او شمالی وزیرستان ممش خیل میرانشاہ روڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنوں ڈی ایچ کیو اسپتال ڈی پی او شمالی وزیرستان ممش خیل میرانشاہ روڈ شمالی وزیرستان ڈی پی او
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔