City 42:
2026-07-24@03:03:24 GMT

سہیل آفریدی کی گرفتاری کیلئےچھاپہ

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

سٹی42: 26 نومبر کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور جنید اکبر کے وارنٹ گرفتاری نکل گئے۔ پولیس نے اسلام آباد میں گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا تو آفریدی وہاں سے پشاور جا چکے تھے۔ 

پی ٹی آئی کے یہ دونوں رہنما  26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں ریاستی اداروں ور ویلین انتظامیہ کے خلاف ہونے والے خوفناک تشدد کے مقدمہ میں ملوث ہیں اور دونوں بار بار طلب کرنے کے باوجود مقدمہ کی سماعت کے لئے عدالت میں پیش نہین ہو رہے۔
اسلام آباد پولیس وارنٹ کے بعد گرفتاری کیلیے خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچی تاہم عدم موجودگی پر بیلف موصول کرواکے چلی گئی

ڈالر کی قیمت میں کمی

 انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر جلاؤ گھیراؤ کیس میں خیبرپختونخوا  کے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت سے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پولیس سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو گرفتار کرنے کیلیے اسلام آباد میں واقع خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچ گئی۔

ذرائع کے مطابق عدالتی حکم کے بعد اسلام آباد پولیس کی نفری کے پی ہاؤس وارنٹ کے ساتھ پہنچی۔ وہاں خیبرپختونخوا ہاؤس کے عملے نے وارنٹ وصول کیے اور بتایا کہ اُس وقت سہیل آفریدی خیبر پختونخوا  ہاؤس میں موجود نہیں تھے۔

روزِ اول سے پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کیلئے اقدامات کو اولین ترجیح دی؛ وزیراعظم

ان وارنٹس پر خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی صدر جنید اکبر کی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے خیبرپختونخوا ہاؤس پر پولیس ریڈ کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس وقت پشاور میں  ہیں، تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او بمعہ 5–6 اہلکاروں کے وارنٹِ گرفتاری کی تعمیل کے لیے آئے تھے، جس کے بعد وہ واپس چلے گئے۔

رکشہ ڈرائیور کو بچانے والا پولیس کانسٹیبل چل بسا

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا ہاؤس سہیل ا فریدی اسلام ا باد گرفتاری کی جنید اکبر کے بعد

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار