وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں بیہوش ہونیوالے شخص کا ماجرا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
"وزن کم کرنیوالی ادویات" کی نئی قیمتوں کے اعلان سے متعلق وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بیہوش ہو جانیوالے شخص کے بارے امریکی سیاسی حلقوں میں وسیع تشویش پائی جاتی ہے اسلام ٹائمز۔ وزن کم کرنے والی ادویات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق امریکی حکومت کے نئے منصوبے کے اعلان کے لئے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران امریکی بیضوی صدارتی دفتر میں موجود "ایک شخص" اچانک بے ہوش ہو گیا تھا جس کے باعث اس تقریب کو عارضی طور پر روک کر صحافیوں کو باہر نکال دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدارتی دفتر میں دوا سازی سے متعلق ایک تقریب کے دوران "ایک شخص" کے بیہوش ہو جانے کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے "اس شخص" کو اجلاس میں موجود "دوا ساز کمپنیوں کے نمائندوں میں سے ایک" کے طور پر متعارف کرواتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ شخص "ٹھیک" ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا کہ جب دوا ساز کمپنی ایلی للی (Eli Lilly) کے سی ای او ڈیوڈ رِکس کی جانب سے صدارتی میز پر تقریر جاری تھی کہ "مہمانوں میں سے ایک"، جو دوسرے عہدیداروں اور فارماسیوٹیکل ایگزیکٹوز کے ہمراہ کھڑا تھا، اچانک ہی بے ہوش ہو کر گرنے لگا۔ تقریب کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ڈیوڈ رِکس نے اعلان کیا کہ "اس شخص" کا نام گورڈن ہے جو "ایلی للی کمپنی کے مہمانوں میں سے ایک" ہے۔
دوسری جانب ماہرین نے "بیہوش ہونے کی وجہ" اور "مریض کی شناخت" کے بارے وائٹ ہاؤس کے دعوے پر سوال اٹھایا ہے۔ اس حوالے سے واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر ڈین ڈائمنڈ کا لکھنا ہے کہ مَیں نے اوول آفس میں بیہوش ہونے والے "ایک شخص" کے بارے جھوٹی رپورٹیں دیکھی ہیں، یہ شخص نوو نورڈِسک کا سی ای او "گورڈن فائنڈلے" نہیں تھا۔ ڈین ڈائمنڈ نے لکھا کہ متعدد ذرائع کے مطابق، وہ ایک "ایسا شخص" تھا کہ جو للی کی GLP-1 دوا استعمال کر رہا تھا جبکہ مَیں نے سنا ہے کہ اب وہ "ٹھیک" ہے۔
دوسرے سیاسی مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ "بیہوش ہونے والے شخص کی اصلی شناخت کے چھپائے جانے" اور "اس تقریب میں متعارف کروائی جانے والی ادویات کے استعمال" کے درمیان کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس بیہوش ہو تقریب کے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز