لاہور،بوتلوں سے بھرا ٹرک رکشے پر الٹ گیا،4افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:۔ لاہور میں ایم او کالج کے قریب بوتلوں سے بھرا ٹرک رکشے پر الٹ گیا، اس حادثے میں رکشے میں بیٹھی 2 خواتین سمیت 4 افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے وقت رکشے میں مجموعی طور پر 8 افراد سوار تھے جن میں 2 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 2 بچوں کو باحفاظت ریسکیو کرلیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق متوفین میں67سالہ شفیق، اس کی اہلیہ60سالہ شبانہ، بیٹا35سالہ ساجدشامل ہیں، ساجدکی اہلیہ32سالہ اقرابھی حادثے میں جاں بحق ہو گئیں۔ پولیس نے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا جبکہ اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔
علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں ٹرک کے رکشے پر الٹنے کے المناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہونے کا پیغام دیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے حادثے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دی۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور حادثے کے اسباب کی نشاندہی کر کے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مو ¿ثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ سوگوار خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے اور متاثرین کو انصاف دلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔