پاک بحریہ کے سربراہ کا دورہ بنگلہ دیش، دوطرفہ بحری تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف 3روزہ سرکاری دورے پر اتوار کے روز بنگلہ دیش پہنچے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون، روابط اور خیرسگالی کو فروغ دینا ہے۔
ڈھاکا کے بانانی میں بنگلہ دیش نیوی ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر ایڈمرل نوید اشرف کا بنگلہ دیش نیوی کے سربراہ ایڈمرل ایم ناظم الحسن نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اس موقع پر بنگلہ دیش بحریہ کے چاق چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا، جس کا ایڈمرل اشرف نے معائنہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے ’میڈ اِن پاکستان‘ نمائش: پاکستانی مصنوعات کی بنگلہ دیش میں دھوم مچ گئی
بعد ازاں دونوں بحری سربراہان نے ملاقات میں پیشہ ورانہ تعاون اور تربیتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے پاک بنگلہ دیش بحری تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اس موقع پر پاک بحریہ کے سینئر افسران، پاکستان کے ہائی کمشنر برائے بنگلہ دیش، ڈیفنس اتاشی اور بنگلہ دیش نیوی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ایڈمرل نوید اشرف نے دورے کے دوران ڈھاکا کینٹ میں ’شکھا انِربان‘ (ابدی شعلہ) پر پھول چڑھا کر بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقات کی، جبکہ اپنے قیام کے دوران وہ چیف آف ایئر اسٹاف، آرمڈ فورسز ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف آفیسر، نیشنل ڈیفنس کالج کے کمانڈنٹ اور چٹاگرام میں بحری حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان بنگلہ دیش کو چاول برآمد کرے گا
دورے کے موقع پر پاکستان نیوی کا جہاز پی این ایس سیف (PNS SAIF) خیرسگالی مشن پر چٹاگرام بندرگاہ پر پہنچا۔ بندرگاہ پر قیام کے دوران، جہاز کے افسران و عملہ بنگلہ دیش نیول اکیڈمی، مختلف بحری اڈوں اور مقامی مقامات کا دورہ کریں گے، جبکہ بنگلہ دیش نیوی کے اہلکار پی این ایس سیف کا معائنہ کریں گے۔
اس تبادلے کا مقصد دونوں بحری افواج کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
ایڈمرل نوید اشرف اور پی این ایس سیف کے 12 نومبر 2025 کو بنگلہ دیش سے روانہ ہونے کا شیڈول ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان بنگلہ دیش تعلقات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان بنگلہ دیش تعلقات ایڈمرل نوید اشرف بنگلہ دیش نیوی بحریہ کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔