پاکستان اور ترکیہ کا علاقائی و عالمی امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پاکستان اور ترکیہ نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھنے، اور خطے سمیت مسلم دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ اتفاقِ رائے باکو میں آذربائیجان کی یومِ فتح پریڈ کے موقع پر وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ملاقات میں ہوا۔ ملاقات میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:آذربائیجان کی فتح کشمیریوں اور فلسطینیوں کے لیے مشعل راہ، وزیراعظم کا باکو میں فوجی پریڈ سے خطاب
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے پاک ترکیہ دوستی ہفتہ کی پُرجوش تقریبات کو سراہا، جو دونوں برادر ممالک کے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کی عکاس ہیں۔
یہ بھی پڑھیے جے ایف-17 تھنڈر کی گرج نے آذربائیجان کے یومِ فتح کی پریڈ میں جوش بھر دیا
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے برادر ملک ترکیہ کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو ایک جامع شراکت داری میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے، جس میں سیاسی، دفاعی، معاشی، تجارتی، سرمایہ کاری اور عوامی روابط شامل ہوں گے۔
اس سلسلے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ترکیہ کا ایک وزارتی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ترک صدر رجب طیب اردوان وزیراعظم محمد شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ترک صدر رجب طیب اردوان وزیراعظم محمد شہباز شریف
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔