بالی وڈ فلم کے ’آواری‘ گانے کا معاوضہ آج تک نہیں ملا: گلوکار عدنان دھول کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پاکستان کے نامور گلوکار عدنان دھول نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی ہدایتکار موہت سوری کی فلم ایک ولن کے گیت آواری کا معاوضہ آج تک نہیں ملا۔
نجی ٹی وی کی پوڈپوسٹ میں گلوکار عدنان دھول نے شرکت کی، اپنی ذاتی اور پروفیشنل زندگی سے متعلق دلچسپ راز کھولے۔
نجی ٹی وی کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عدنان دھول نے کہاکہ گانے کا شوق تھا پھر لاہور آگیا، ڈرامے میں اداکاری بھی کی، گلوکاری کیلئے لمبا سفر ہے، پہلے شو سے 10 ہزار روپے ملے، منیجر نے پروڈکشن کیلئے کمپیوٹر لے کر دیا بس پھر میں لگا رہا اور 18 گھنٹے گھنٹے کام کرتا تھا۔
انہوں نے بتایاکہ گیت ’پردیس کٹینداں‘ کو جو سمجھتا ہے وہ روتا رہتا ہے، ایک کنسرٹ میں خاتون یہ گیت سن کر اتنا روئیں کہ میں گانا ہی بھول گیا۔
بالی وڈ میں گیت آواری کے حوالے سے کہا کہ موہت سوری نے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا اور کہا کہ ہمیں گانا چاہیے، اس کے بعد پھر آئیفا میں نامزدگی ہوگئی، گانا اگر اچھا ہے اور ہٹ ہے تو وہ لے لیتے ہیں، جب گانا ان کو کلک کرتا تو لیتے ہیں۔
آواری کے پیسوں سے متعلق گلوکار نے انکشاف کیا کہ آواری گانے کے پیسے آج تک نہیں ملے، وہ پیسے ٹی سیریز نے کلیئر کردیے لیکن جو بھارت میں ہمارا نمائندہ تھا اس کو دیے تھے اس سے ہمیں نہیں پہنچے اور آج تک نہیں ملے۔
عدنان دھول کا کہنا تھاکہ آپ کے گانے 2 لاکھ یا 10 لاکھ لوگ سن رہے ہیں تو اس سے بڑا ایوارڈ کیا ہوگا؟ یہ شوز کے ایوارڈ کوئی معنی نہیں رکھتے، آئیفا میں نامزد ہونے پر محسوس ہوا کہ پاکستان میں کوئی منہ نہیں لگاتا تو بعد میں سمجھ آگئی ایوارڈ کیسے ملتے ہیں۔
خیال رہے کہ 2014 میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’ایک ولن‘ میں شردھا کپور، رتیش دیش مکھ اور سدھارت ملہوترا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
فلم میں عدنان دھول نے آواری گیت گایا بھی اور اس فلم کے گانے کمپوز بھی کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عدنان دھول نے ا ج تک نہیں ا واری
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔