data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کے بلاول ہاؤس میں صدر مملکت آصف زرداری سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اہم ملاقات کی،  اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری بھی موجود تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تفصیلی مشاورت کی گئی،  بلاول   زرداری نے مولانا فضل الرحمن کو پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ (سی ای سی) کے فیصلوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ پیپلز پارٹی آئینی ترمیم کے عمل کو قومی اتفاقِ رائے سے آگے بڑھانے کی خواہاں ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وفاقی حکومت کو آئینی ترامیم کی منظوری سے قبل تمام جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تاکہ پارلیمانی عمل میں یکجہتی قائم رہے،  ملاقات میں یہ تجویز بھی زیر غور آئی کہ اگر ضرورت پڑی تو مجوزہ ترامیم پر مزید مشاورت کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے سیاسی ہم آہنگی اور جمہوری عمل کو مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور طے کیا کہ مشاورت کا عمل آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا