مولانا فضل الرحمان کی صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صدر مملکت آصف زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ایک اہم ملاقات کی۔ یہ ملاقات بلاول ہاؤس میں ہوئی، جہاں مولانا فضل الرحمان اپنے وفد کے ہمراہ پہنچے۔ اس ملاقات میں مولانا راشد سومرو، مفتی ابرار احمد اور دیگر اہم رہنما بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔
ملاقات کے دوران سیاسی صورتحال اور پاکستان کی آئینی تبدیلیوں، خاص طور پر 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اس ترمیم کے حوالے سے دونوں جانب سے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس کے اثرات پر غور کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر بھی بات کی، جس میں آئینی ترمیم کے معاملے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
یہ ملاقات نہ صرف آئینی ترامیم پر بلکہ ملکی سیاست میں اہم بدلاؤ کے حوالے سے بھی گہری توجہ کا مرکز بنی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔