شہباز شریف کی آذربائیجان کے صدر سے ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
باکو:۔ پاکستان اور آذربائیجان نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں اپنے کثیر الجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیاہے جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کاراباخ کی آزادی کی جنگ میں آذربائیجان کی فتح کو حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والے مظلوم عوام، خصوصاً بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطینی عوام کے لیے امید کی کرن قرار دیا ہے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعہ کو یہاں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہبازشریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے درمیان ملاقات آذر بائیجان کے صدارتی محل میں ہوئی جس میں پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے آذربائیجان کے یوم فتح کی تقریب میں شرکت کی دعوت دینے پر آذربائیجان کے صدر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے آذربائیجان کی حکومت اور عوام کو یوم فتح پر مبارکباد دی جو آرمینیا کے خلاف کاراباخ کی آزادی کی 44روزہ جنگ میں تاریخی فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آذربائیجان کی فتح حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والے مظلوم عوام خصوصاً بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطینی عوام کے لیے امید کی کرن ہے۔ دونوں رہنماﺅں نے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور سیاسی، تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، روابط اور دفاع کے شعبوں میں اپنے کثیر الجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کو اپنی سہولت کے مطابق دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کی۔ وزیراعظم نے اس سال کے شروع میں آرمینیا کے ساتھ تاریخی امن معاہدے پر دستخط کرنے پر صدر علیوف کو سراہا۔ صدر الہام علیوف نے کاراباخ کے علاقے پر غیر قانونی قبضے کے خلاف منصفانہ جدوجہد میں آذربائیجان کی مسلسل حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آذربائیجان کے صدر صدر الہام علیوف آذربائیجان کی شہباز شریف انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔