ریاض میں بلیک ہیٹ 2025: سعودی عرب ایک بار پھر عالمی سائبر سیکیورٹی کا مرکز بننے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
سعودی دارالحکومت ریاض رواں سال ایک بار پھر عالمی سطح کی سائبر سیکیورٹی سرگرمیوں کا مرکز بننے جارہا ہے۔
جہاں ’بلیک ہیٹ‘ کا چوتھی ایڈیشن 2 تا 4 دسمبر 2025 کو ملہم میں واقع ریاض ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوگا۔
اس ایونٹ کا اہتمام سعودی فیڈریشن فار سائبرسیکیورٹی، پروگرامنگ اینڈ ڈرونز اور اس کی کمپنی تحالف کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔
جبکہ عالمی ادارہ انفورما اور فنڈ فار ایونٹس انویسٹمنٹ اسٹریٹجک پارٹنرز ہوں گے، اس سال کی تھیم ’سائبر سیکیورٹی کے لیے عالمی پلیٹ فارم‘ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
بلیک ہیٹ دنیا کے اہم ترین سائبر سیکیورٹی ایونٹس میں شمار ہوتا ہے اور اس مرتبہ اس کی سرگرمیوں میں نمایاں توسیع کی جا رہی ہے۔
اس کا مقصد کاروباری شعبے کو جدید سیکیورٹی ٹیکنالوجیز سے جوڑنا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع سامنے لانا ہے۔
اس موقع پر دنیا بھر کے ٹیک لیڈرز، ماہرین، اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کار ایک ہی ماحول میں اکٹھے ہوں گے۔
ایونٹ میں 140 ممالک سے 45,000 سے زائد شرکا، 450 سے زیادہ عالمی ومقامی کمپنیوں کی نمائش اور 300 بین الاقوامی ماہرین کی شرکت متوقع ہے۔
مزید پڑھیں:
اس کے ساتھ 12 تھیٹرز پر 500 گھنٹے سے زیادہ خصوصی مواد پیش کیا جائے گا، جن میں لائیو ایتھیکل ہیکنگ ڈیموز، اعلیٰ تکنیکی ورکشاپس، 18 پینل ڈسکشنز اور 7 انٹرایکٹو سیشنز شامل ہیں۔
سعودی فیڈریشن کے چیئرمین فیصل الخمیسی کے مطابق بلیک ہیٹ کی مسلسل چوتھی میزبانی اس بات کی دلیل ہے کہ سعودی عرب عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی میں قائدانہ حیثیت حاصل کر رہا ہے۔
جبکہ ریاض خطے کی سب سے اہم ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ایڈیشن کا مقصد ٹیکنالوجی اور بزنس کے درمیان گہرے تعاون کو فروغ دینا اور معیشت کو مضبوط کرنے والی جدید سیکیورٹی کو لاحق مسائل کے حل کو اپنانے میں اداروں کی مدد کرنا ہے۔
مزید پڑھیں:
ایونٹ میں گوگل کلاؤڈ، سسکو، ہبوب، سائٹ، انفو بلوکس سمیت متعدد عالمی کمپنیاں شریک ہوں گی۔
جبکہ مائیکروسوفٹ، انٹرپول، ماسٹر کارڈ اور رائٹ گیمز کے ماہرین بھی اس اہم ایونٹ میں شریک ہوں گے، یہ شمولیت اکیڈمی طویق کے تعاون سے ممکن بنی ہے۔
یاد رہے کہ بلیک ہیٹ کی بنیاد 1997 میں امریکا میں رکھی گئی تھی، اور آج یہ سائبر سیکیورٹی کے شعبے کا سب سے معتبر عالمی پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے بہترین ماہرین اور جدت کار اپنی تحقیق اور جدید ترین تکنیک پیش کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرپول بلیک ہیٹ پروگرامنگ اینڈ ڈرونز ریاض سائبر سیکیورٹی سعودی عرب لائیو ایتھیکل ہیکنگ مائیکروسوفٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرپول پروگرامنگ اینڈ ڈرونز ریاض سائبر سیکیورٹی مائیکروسوفٹ سائبر سیکیورٹی
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر