60 فیصد پاکستانیوں نے دوسری شادی کی مخالفت کر دی، گیلپ رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے نے پاکستانی معاشرے میں دوسری شادی کے بارے میں دلچسپ رجحانات کو بے نقاب کیا ہے۔
سروے کے مطابق ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس مسئلے پر تقسیم نظر آتا ہے، جہاں 40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حق میں جبکہ 60 فیصد اس کے مخالف ہیں۔ مخالفین نے واضح طور پر کہا کہ کسی بھی صورت میں دوسری شادی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق دوسری شادی کے حامیوں نے بھی یہ حمایت غیر مشروط نہیں کی بلکہ اسے مالی استطاعت سے مشروط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص کے پاس دونوں بیویوں کا خرچ اٹھانے اور انصاف سے پیش آنے کی اہلیت ہو تو دوسری شادی کی جا سکتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حمایت کرنے والوں میں مردوں کی شرح خواتین کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے — 50 فیصد مرد دوسری شادی کے حامی ہیں جبکہ خواتین میں یہ شرح 30 فیصد ہے۔
سروے میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ کیا دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے درمیان انصاف ممکن ہے؟ اس کے جواب میں 72 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ ایسا کرنا “مشکل یا ناممکن” ہے۔ صرف 26 فیصد نے کہا کہ منصفانہ سلوک ممکن ہے۔ حیرت انگیز طور پر انصاف کو ناممکن قرار دینے والوں میں بھی 59 فیصد مرد شامل تھے۔
جب یہ پوچھا گیا کہ دوسری شادی کن حالات میں کرنی چاہیے تو 39 فیصد نے کہا کہ اگر پہلے بچے نہ ہوں تو دوسری شادی کی جا سکتی ہے، 15 فیصد نے دونوں بیویوں میں انصاف کرنے کی صلاحیت کو بنیادی شرط قرار دیا، جبکہ 10 فیصد نے کہا کہ دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت لازمی ہونی چاہیے۔ یہ نتائج پاکستانی معاشرے میں ازدواجی تعلقات، مذہبی تعبیرات اور سماجی روایات کے درمیان موجود تضادات کی عکاسی کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دوسری شادی کے دوسری شادی کی نے کہا کہ فیصد نے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔