عارضہ قلب سمیت دیگر امراض میں مبتلا افراد حج نہیں کرسکیں گے‘ ڈی پورٹ کرنیکی پالیسی بھی لاگو
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251117-08-26
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی حکومت نے بیمار عازمین پر حج2026 کی پاپندی عاید کرتے ہوئے ڈی پورٹ کرنے کی پالیسی بھی لاگو کردی۔ سعودی وزارت مذہبی امور نے کہا کہ بیمار عازمین کو سعودی عرب واپس وطن بھیج دے گا، واپسی کا خرچہ عازمین حج خود ادا کریں گے، بیمار عازم کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ڈاکٹرز کے خلاف بھی کارروائی بھی ہوگی۔ سعودی وزارت صحت کی ہدایات کے مطابق عازمین حج 2026 کے لیے طبی شرائط عاید کی گئی ہیں۔ سعودی وزارت صحت نے کہا کہ گردوں کے امراض، ڈائیلاسز کے مریضوں کو حج 2026 کی اجازت نہیں، سعودی وزارت صحت نے دل کے امراض کا شکار مریض جو مشقت کے بھی قابل نہ ہوں ان پر بھی حج کی پاپندی لگادی۔ پھیپھڑوں اور جگر کی بیماری کے حامل مریضوں پر بھی پاپندی ہوگی، شدید اعصابی یا نفسیاتی امراض، کمزور یاداشت، شدید معذوری اور ڈیمنشیا کا شکار افراد پر بھی سعودی حکومت نے حج پر پابندی لگادی۔ شدید بڑھاپے یا الزائمنز اور رعشہ کے مریض پر بھی پاپندی عاید کردی گئی، حاملہ خواتین، کالی کھانسی، تپ دق، وائرل ہیمرج بخار کے مریض بھی حج 2026 نہیں کرسکیں گے۔ کینسر کے مریضوں پر بھی حج کی پابندی عاید کردی گئی، وزارت مذہبی امور نے کہا کہ حج پر روانگی سے قبل میڈیکل افسر حج پر روانگی سے روکنے کا مجاز ہوگا۔ وزارت مذہبی امور نے کہا کہ سعودی حکام کی مانیٹرنگ ٹیمیں عازم حج کے فٹنس سرٹیفکیٹ کی درستی کی تصدیق کریں گی، مقررہ بنیادی صحت کے حامل افراد ہی سفر حج پر مقامات روانہ ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔