جازان میں بین الاقوامی کانفرنس LabTech 2025، سائنس اور لیبارٹری ٹیکنالوجی کی دنیا کا مرکز بنے گی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
جازان کیمسٹری سوسائٹی، جامعہ جازان کے اسٹریٹجک تعاون کے ساتھ، آئندہ ماہ بین الاقوامی کانفرنس اور نمائش LabTech 2025 کا انعقاد کر رہی ہے، جس میں دنیا بھر کے ممتاز سائنس دان، محققین اور لیبارٹری ٹیکنالوجی سے وابستہ بڑی کمپنیوں کے سربراہان شرکت کریں گے۔ یہ ایونٹ 15 اور 16 نومبر 2025 کو منعقد ہوگا۔
کانفرنس میں جدید تجزیاتی آلات جیسے GC، HPLC اور ICP کی خرابیوں کی تشخیص پر اعلیٰ سطح کی تربیتی ورکشاپس پیش کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، لیبارٹری ڈیٹا اور آن لائن اینالائزرز کے درمیان فرق کم کرنے کے جدید طریقوں پر خصوصی سیشنز بھی شامل ہوں گے۔
ایونٹ میں 25 بین الاقوامی و مقامی ماہرین، 30 سے زائد علاقائی و عالمی شراکت دار شامل ہوں گے، جبکہ 15 سائنسی سیشنز ہوں گے اور 5 عملی ورکشاپس ہوں گی، تقریباً 40 صنعتی و تعلیمی اداروں کی نمائش بھی ہوگی۔
اس موقع پر کیمسٹری کی دنیا کی نمایاں شخصیات بھی شریک ہوں گی، جن میں نوبل انعام یافتہ پروفیسر مارٹن میلدال، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ زیر، ارامکو کے سینئر نائب صدر انجینئر عبداللہ السویلم، امریکی کیمیکل سوسائٹی کی سربراہ پروفیسر ڈوروتھی فلیپس، یاسرف کے سی ای او انجینئر سعد بن مطلق، سلطنت عمان کے پروفیسر احمد الرواحي اور GCC-Lab کے سی ای او انجینئر صالح العمری شامل ہیں۔
LabTech 2025 خطے کی اہم ترین سائنسی تقریبات میں شمار ہوتی ہے، جو علمی تحقیق اور صنعتی تجربے کو یکجا کر کے کیمیکل انڈسٹری اور لیبارٹری ٹیکنالوجیز کے مستقبل پر گہرا مکالمہ فراہم کرتی ہے۔ یہ ایونٹ سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق جدت، تکنیکی ترقی اور سائنسی استعداد کے فروغ میں ایک نمایاں قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جازان سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔