امریکا میں شٹ ڈاؤن سے زندگی مفلوج، 1500 سے زائد پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
امریکی فضائی ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی جانب سے جاری حکومتی احکامات کے تحت ملکی ایئر لائنز اتوار کو مسلسل تیسرے دن بھی پروازوں میں کمی پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:’ ڈیموکریٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھروسہ نہیں کرتے‘، امریکا میں 38 روزہ حکومتی شٹ ڈاؤن برقرار
یہ قدم ائیر ٹریفک کنٹرول اسٹاف کی شدید قلت اور 40 روز سے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث اٹھایا گیا ہے۔
فضائی عملے کی قلت، 42 ائیرپورٹس متاثرایف اے اے کے مطابق ملک کے 42 ہوائی اڈوں اور کنٹرول سینٹرز میں عملے کی کمی کے باعث تاخیر اور منسوخیوں کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ متاثرہ شہروں میں اٹلانٹا، نیوآرک، سان فرانسسکو، شکاگو اور نیو یارک شامل ہیں۔
ہزاروں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکارگزشتہ روز 1550 پروازیں منسوخ اور 6700 تاخیر کا شکار ہوئیں، جب کہ جمعہ کو 1025 پروازیں منسوخ ہوئی تھیں۔
ایئر لائن حکام کے مطابق متعدد “ڈیلیے پروگرامز” کے باعث فلائٹ شیڈول ترتیب دینا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔
فلائٹ کٹوتیاں 14 نومبر تک 10 فیصد تک پہنچیں گیایف اے اے نے جمعے سے 40 بڑے ہوائی اڈوں پر روزانہ کی پروازوں میں 4 فیصد کمی کا حکم دیا ہے، جو 14 نومبر تک بڑھ کر 10 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ، سیاسی کشمکش جاری
یہ کمی امریکا کی 4 بڑی ایئر لائنز, امریکن ایئرلائنز، ڈیلٹا، سا=تھ ویسٹ اور یونائیٹڈ ایئرلائن پر سب سے زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔
13 ہزار کنٹرولرز بغیر تنخواہ کے کام پر مجبورشٹ ڈاؤن کے باعث 13,000 ائیر ٹریفک کنٹرولرز اور 50,000 سیکیورٹی اہلکاروں کو تنخواہ کے بغیر کام کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شین ڈفی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مزید کنٹرولرز ڈیوٹی پر نہ آئے تو 20 فیصد تک پروازوں میں کٹوتی کرنا پڑ سکتی ہے۔
محفوظ پروازوں پر خدشات میں اضافہریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے انکشاف کیا ہے کہ شٹ ڈاؤن کے آغاز سے اب تک پائلٹس نے 500 سے زائد حفاظتی شکایات درج کرائی ہیں، جن میں عملے کی تھکن کے باعث غلطیوں کے واقعات شامل ہیں۔
یہ بحران امریکa کے فضائی نظام کو دہائیوں کے بدترین دباؤ کا شکار بنا چکا ہے، جب کہ ایئر لائنز کو خدشہ ہے کہ اگر تنخواہوں کا مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو ملک بھر میں پروازوں کا شیڈول مکمل طور پر درہم برہم ہوسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا شٹ ڈاؤن فلائٹس منسوخ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا شٹ ڈاؤن فلائٹس منسوخ پروازیں منسوخ شٹ ڈاؤن کے کے باعث
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔