پاکستان کو مذاکرات نہیں بلکہ قواعد کی بنیاد پر سرمایہ کاری کا مرکز بنانا ہوگا، عاطف اکرام شیخ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
پاکستان کو مذاکرات نہیں بلکہ قواعد کی بنیاد پر سرمایہ کاری کا مرکز بنانا ہوگا، عاطف اکرام شیخ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:صدر ایف پی سی سی آئی، ای سی او-سی سی آئی اور نائب صدر کاسی عاطف اکرام شیخ نے پرائم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام منعقدہ پانچویں پاکستان پراسپیرٹی فورم میں شرکت کی اور فورم سے کلیدی خطاب کیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان، بزنس کمیونٹی کے رہنما، ٹیکس اور سرمایہ کاری کے ماہرین نے بھی خطاب کیا۔
عاطف اکرام شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پائیدار معاشی ترقی اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں۔ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام ناگزیر ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اب مذاکرات کی نہیں بلکہ قواعد و ضوابط کی بنیاد پر سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرمایہ کاری پالیسی کا محور جامع منصوبہ بندی، شفافیت اور اعتماد سازی ہونا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا “اڑان پاکستان” منصوبہ ایک مثبت اور قابلِ تحسین قدم ہے جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ ٹیکس پالیسی قابلِ عمل اصلاحات پر مرکوز ہونی چاہیے جس کی بنیاد ٹیکس نیٹ میں توسیع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہائی ٹیرف معاشی ترقی کی مؤثر حکمتِ عملی نہیں، بلکہ اصلاحات کو اعتماد اور پائیداری کی بنیاد پر تشکیل دینا ضروری ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایف پی سی سی آئی اور پاکستان کی بزنس کمیونٹی پائیدار ترقی کے لیے حکومت کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے تاکہ ملک کو مضبوط معاشی بنیاد فراہم کی جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئینی عدالت کا قیام میثاق جمہوریت کی عروج ہے، آج بے نظیر کی روح کو بہت تسکین ملے گی، وزیراعظم سونے کی قیمت میں آج کمی ریکارڈ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ انفرادی ٹیکس دہندگان کیلئے آن لائن ریٹرن، ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ لازمی قرار، نوٹیفکیشن بھی جاری سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ پاکستان کی جانب سے افغان بارڈر کی بندش سے کتنے کروڑ ڈالرز کا نقصان ہوا؟ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے امریکا سے درآمد شدہ مویشی پاکستان پہنچ گئے عالمی موسمیاتی گورننس میں چین کی سبز تبدیلی کا کلیدی اور رہنما کردارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عاطف اکرام شیخ سرمایہ کاری کی بنیاد پر کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔