آمنہ کی بوری بند لاش ملنے کا معاملہ، 8ملزمان شک کی بنیاد پر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251112-2-3
میرپورخاص(نمائندہ جسارت) 8 سالہ بچی کی بوری بند لاش ملنے کا معاملہ آمنہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری بچی کو ربڑ کے پائپ سے گلہ گھونٹ کر مارا گیا پولیس کی دوڑیں 8 ملزمان شک کی بنیاد پر گرفتار تفصیلات کے مطابق میرپورخاص تعلقہ تھانے کی حد میں 8 سالہ معصوم آمنہ کے لرزہ خیز قتل کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے آمنہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی گئی رپورٹ میں بچہ آمنہ کو ربڑ کے پائپ سے گلہ گھونٹ کر مارا گیا جبکہ منہ جزوی کھلا ہوا بہایا گیا ہے اور زبان باہر نکلی ہوئی تھی بچی کی آنکھیں ورم زدہ اور شلوار پھٹی ہوئی تھی رپورٹ کے مطابق آمنہ بچی سے کئی بار زیادتی کا امکان کی علامات موجود ہیں ڈاکٹروں کے مطابق بچی کا معدہ بھی خالی تھا۔لاش گلنے کے باعث مزید وضاحت ممکن نہیں دوسری جانب میرپورخاص آمنہ لرزہ خیز قتل اور بوری بند نعش والے معاملے میں ایس ایس پی کی جانب سے بنائی جانے والی چار رکنی جی آئی ٹی ٹیم کی جانب سے مختلف جگہوں پر چھاپے مار آمنہ کیس کے شک میں 8 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے زرائع کے مطابق 8 ملزمان میں سے دو ملزمان پر ملوث ہونے کا شک ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ گرفتار ملزمان کو نامعلوم مقام منتقل کرنے کی اطلاعات ہیں آمنہ قتل کیس وزیر داخلہ نے نوٹس لیا ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔