صدر ٹرمپ کی دعوت: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سرکاری دورے پر امریکا روانہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکا روانہ ہوگئے۔
سعودی شاہی دیوان نے آج ایک اہم بیان جاری کیا، جس کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر اور امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کی دعوت پر ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان آج امریکا کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے۔
شہزادہ محمد بن سلمان دورے کے دوران وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
ملاقات میں دونوں رہنما دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، مختلف شعبوں میں شراکت بڑھانے اور باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی وعالمی امور پر گفتگو کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا روانہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان صدر ٹرمپ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا روانہ سعودی ولی عہد وی نیوز ولی عہد
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔