مدینہ: بھارتی عمرہ زائرین کی بس آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی، 42 جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مدینہ منورہ: سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے آنے والے بھارتی زائرین کی بس اور آئل ٹینکر کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 42 افراد ہلاک ہو گئے۔ واقعہ پیر کی صبح پیش آیا جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانے والے زائرین کی بس سڑک پر آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی، جس کے بعد دونوں گاڑیوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
عرب میڈیا کے مطابق حادثے میں بس میں سوار مجموعی طور پر 42 سے 45 افراد زخمی اور جاں بحق ہوئے، جن میں 20 خواتین اور 11 بچے شامل تھے۔ بس میں سوار افراد بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتے تھے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی حکام نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی اور جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد اور آگ پر قابو پانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق واقعے کی تازہ ترین صورتحال، اقدامات اور امدادی کارروائیوں کی تفصیلات سے باخبر رہنے کے لیے سیکرٹریٹ میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جو متاثرین کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کو بھی معلومات فراہم کرے گا۔
بھارتی سیاستدان اسد الدین اویسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق حادثے میں 41 زائرین جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم سعودی حکام کی جانب سے تاحال رسمی اعلان یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
یہ واقعہ عمرہ زائرین کے لیے انتہائی المناک ہے اور سعودی حکام نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں میں تعاون کریں اور حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کالج میں دیمک زدہ نقدی اور ’خفیہ کمرہ‘ برآمد، سیاسی پارٹیوں میں کشیدگی
۔
۔
کولکاتا کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں صفائی مہم کے دوران حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں دیمک زدہ ایک لاکھ روپے سے زائد نقدی برآمد ہوئی، جبکہ بعد ازاں ایک مبینہ ’خفیہ کمرہ‘ بھی دریافت ہوا جس نے ادارے کے انتظامی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
دیمک زدہ رقم زیادہ تر 100 اور 500 روپے کے نوٹوں پر مشتمل تھی، جو دو پرانے سفری سوٹ کیسز میں ایک الماری کے اندر رکھی گئی تھی۔ حکام کے مطابق یہ نوٹ شدید طور پر خراب اور دیمک زدہ حالت میں پائے گئے۔
یہ صفائی مہم مون سون سے قبل تعلیمی ادارے کی صفائی اور بہتری کے لیے شروع کی گئی تھی، جس کی ہدایت شہری انتظامیہ کی جانب سے دی گئی تھی۔ دورانِ کارروائی جب کمروں کی جانچ پڑتال کی گئی تو یہ نقدی برآمد ہوئی۔
ایک اہلکار کے مطابق، ’زیادہ تر نوٹ خراب اور گندے ہو چکے ہیں۔ ان کی مکمل فہرست (انوینٹری) تیار کی جا رہی ہے اور ویریفیکیشن کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔‘
نقدی کے ذریعے اور اسے رکھنے والے افراد کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے، تاہم اس واقعے نے سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔
بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے رکن اسمبلی سجل گھوش نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پیچھے بدعنوانی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کالج یونین روم میں اتنی بڑی رقم کسی کی معلومات کے بغیر کیسے موجود رہ سکتی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ادھر کالج انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واقعے کے اگلے روز حکام نے سرندرناتھ کالج میں ایک مبینہ ’خفیہ کمرہ‘ بھی دریافت کیا، جسے مبینہ طور پر ترنمول کانگریس کے ایک رہنما سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق جب وہ یونیورسٹی کی چھت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو انہیں ایک مکمل طور پر تیار شدہ کمرہ ملا، جس میں ایئر کنڈیشنر، آرام دہ بستر، دیوار پر لگی گھڑی اور آرائشی پینٹنگز موجود تھیں۔
اس کے ساتھ ہی ایک جدید اور مکمل طور پر تیار شدہ واش روم بھی برآمد ہوا۔ مزید برآں، حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی کمرے سے ایک آتشیں اسلحہ بھی ملا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ یہ کمرہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا اور یہاں کون کون آتا جاتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا دیمک زدہ کرنسی نوٹ کولکتہ کالج