مدینہ بس حادثے میں زندہ بچ جانے والا واحد شخص
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گزشتہ روز مدینہ منورہ میں ایک خوفناک بس حادثہ پیش آیا تھا جس میں بھارت سے تعلق رکھنے والے 46 عمرہ زائرین میں سے 45 جاں بحق ہو گئے۔
بس مدینہ سے مکہ کی جانب جا رہی تھی جب ایک آئل ٹینکر سے ٹکرانے کے باعث یہ ہولناک واقعہ پیش آیا۔ حادثے کی شدت اتنی تھی کہ بس میں آگ بھڑک گئی اور زیادہ تر مسافر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
حادثے میں بال بال بچنے والے واحد نوجوان 24 سالہ محمد عبدالشعیب تھے، جو اس وقت ڈرائیور کی سیٹ کے قریب بیٹھے تھے اور ڈرائیور سے بات کر رہے تھے۔ بس ٹکرانے اور آگ لگنے کے فوراً بعد عبدالشعیب نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بس کی کھڑکی سے چھلانگ لگائی، جس کی بدولت وہ زندہ بچ گئے، جبکہ دیگر مسافروں کے پاس حرکت کرنے کا وقت نہیں تھا۔
عبدالشعیب اس وقت سعودی عرب کے اسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ حادثے میں ان کے والدین، دادا، چچا اور چچا کے خاندان کے تین افراد بھی جاں بحق ہوئے، جس نے اس نوجوان کے لیے ذاتی صدمہ مزید بڑھا دیا۔
عبدالشعیب کے رشتے دار محمد تحسین نے بتایا کہ نوجوان سعودی عرب کی ایک نجی فرم میں ملازم ہے اور اس نے حادثے کے فوراً بعد فون پر زخمی حالت میں اہل خانہ کو اطلاع دی کہ وہ زندہ بچ گیا ہے لیکن اپنے والدین اور قریبی رشتہ دار کھو بیٹھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد عبدالشعیب اسپتال میں داخل ہو جانے کی وجہ سے مزید رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
اس واقعے نے نہ صرف عبدالشعیب کی زندگی بدل دی بلکہ اس کے خاندان اور اہل خانہ کے لیے ناقابل بیان صدمہ بھی پیدا کیا۔ سعودی عرب میں عمرہ کے لیے جانے والے افراد کی حفاظت کے لیے مقامی حکام اور سفارتی اداروں کو بھی فوری اقدامات کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
اگر چاہو تو میں اس خبر کو اور بھی جذباتی انداز میں، 5-6 چھوٹے پیراگراف میں دوبارہ ترتیب دے دوں تاکہ ہر پہلو الگ الگ واضح ہو جائے۔ کیا میں یہ کر دوں؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔