Jasarat News:
2026-07-24@07:18:54 GMT

اسلام آباد کچہری میں دھماکا

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان ایک بار پھر شدید دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ چوبیس گھنٹوں میں دو دھماکے ہوئے پہلا دھماکا وانا میں وانا کیڈٹ کالج کے گیٹ پر ہوا جہاں خودکش حملہ آور نے کیڈٹ کالج کے گیٹ کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ تین دہشت گردوں نے کیڈٹ کالج میں داخل ہونے کی کوشش کی اس وقت کالج میں 537 افراد موجود تھے۔ سیکورٹی فورسز نے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ اگلے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی 11 ڈسٹرکٹ جوڈیشنل کمپلیکس کچہری کے قریب پولیس وین کے قریب زور دار خودکش دھماکا ہوا۔ جس کی آواز دور دور تک سنائی دی گئی۔ اس دھماکے میں 12 انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور 27 افراد شدید زخمی ہوئے۔ یہ دہشت گرد کارروائیاں بلاشبہ بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ دہشت گرد کارروائی ملکی استحکام پر شدید حملہ ہے۔ بے گناہ انسانوں کو ہلاک کرنے والے انسان کہلانے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ ادھر ہندوستان میں بھی مودی سرکار نے نئی دہلی میں سیلنڈر دوکان کے قریب دھماکے کروا کے اپنی انتخابی مہم میں جان ڈالنے کی کوشش کی ہے اور ان دھماکوں کا الزام پاکستان پر تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مودی سرکار پاکستان سے ہونے والی جنگ میں اپنی ذلت آمیز شکست کو بھلا نہیں پا رہی ہے اور خوفناک خواب کی طرح وہ اس پر مسلط ہے اور وہ ہر کارروائی اور واقعہ پاکستان پر تھوپنے میں لگا ہوا ہے۔

وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد کچہری میں خوفناک دھماکے اور خود کش حملے پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہے۔ دہشت گردی کا یہ سلسلہ نجانے کب رُکے گا۔ ان دہشت گرد کارروائیوں سے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ انسانی جانوں کے قاتلوں نے ثابت کردیا ہے کہ ان کا کسی دین اور مذہب سے تعلق نہیں ہے۔ جب سے افغانستان سے کشیدگی کے حالات پیدا ہوئے ہیں پاکستان میں دہشت گردی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ بھارت افغانستان کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر اپنی کارروائیوں میں مصروف عمل ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس دہشت گردی کی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دے۔ دہشت گرد عناصر کسی بھی رحم کے مستحق نہیں ہیں۔ ان سانپوں کو اگر ابھی کچلا نہیں گیا تو پھر گلی گلی میں اس طرح کی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ پاکستان گزشتہ چالیس برسوں سے حالت جنگ میں ہے۔ روس نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے افغانوں کی جنگ لڑی اور اس کے نتیجے میں روس کی خفیہ ایجنسی خاد پاکستان پر حملہ آوور تھی اور روزآنہ پشاور، کوئٹہ، کراچی ودیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات بم دھماکے ہوتے تھے۔ سانحہ لال مسجد کے بعد ان واقعات نے مزید شدت اختیار کرلی اور جنرل پرویز مشرف نے غیروں کی جنگ میں پاکستان کی سالمیت اور آزادی کو جھونک دیا اور آج تک ہم اس جنگ سے نہیں نکل سکے ہیں۔

بنگلا دیش میں آنے والے عوامی انقلاب نے بھارت کی لے پالک عوامی لیگ کی بساط اُلٹ کر رکھ دی اور حسینہ واجد کا جنازہ ہی نکال دیا گیا۔ حسینہ واجد بڑی مشکل سے جان بچا کر اپنے آقا مودی سرکار کے پاس پہنچی جس نے انہیں پناہ دی۔ بنگلا دیش جو بھارت کی ریاست بنا ہوا تھا۔ طلبہ تحریک نے بھارت کے تمام ارمانوں پر اوس ڈال دی۔ بھارت بنگلا دیش ہاتھ نکلے جانے پر اپنے زخم چاٹ رہا تھا کہ اس کے شیطانی دماغ میں ایک نیا حربہ آیا اور اس نے افغانستان پر ڈورے ڈالے اور افغان حکومت کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اپنا اسیر بنا لیا۔ جس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کچھ غلط فہمیاں اور پاکستان کو کچھ شکایات بھی پیدا ہوئی کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دراندازی ہورہی ہے اور ٹی ٹی پی کے کارندے پاکستان کی سرحد پار کر کے پاکستان کے علاقوں میں دہشت گردی کر کے واپس افغانستان چلے جاتے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کی حکومت کو شواہد بھی پیش کیے لیکن تمام شکایات کو رد کردیا گیا۔ الٹا افغانستان کی طالبان فورس نے پاکستان پر حملہ کردیا جس کو پاکستان نے انہیں دندان شکن جواب دیا اور افغانستان میں گھس کر انہیں مارا اور نو کے قریب چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا۔ 700 کلو میٹر تک کا علاقہ آج بھی پاکستان کے قبضے میں ہے۔

افغانستان کو غلط فہمی ہوگئی تھی کہ اس نے روس اور امریکا کو شکست دی ہے لیکن بچہ بچہ جانتا ہے کہ افغانوں کی یہ جنگ تو پاکستان نے لڑی ہے۔ افغانستان حکمرانوں کا پسندیدہ میدان جنگ رہا ہے اور اقتدار کی ان جنگوں میں افغانوں کی نسلیں برباد ہوگئی ہیں۔ پاکستان نے افغانوں پر احسان کیا کہ وہ ان کا بردار اسلامی ملک ہے لیکن افغانستان نے ماضی کی طرح بھارت کے ساتھ دوستی گاڑی اور پاکستان کی کمر میں چھرا گھونپا۔ آج بھی افغانستان سے دہشت گرد پاکستان کی حدود میں داخل ہوکر دہشت گردی کررہے ہیں اور بے گناہ انسانوں کو خون میں نہلایا جارہا ہے۔ وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد کچہری میں ہونے والو دھماکوں میں بلاشبہ بھارت ملوث ہے اور افغانستان نے اسے سہولت کاری فراہم کی ہے۔ حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے ان واقعات کا سختی کے ساتھ نوٹس لیں اور حملوں میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کر کے انہیں نشان عبرت بنایا جائے۔

قاسم جمال.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد پاکستان کی پاکستان پر پاکستان نے کیڈٹ کالج پر حملہ کے قریب اور اس ہے اور

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار