الاقصیٰ کے امام شیخ عکرمہ صبری پر ’اشتعال انگیزی‘ کا مقدمہ؛ الزامات من گھڑت قرار
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
الاقصیٰ مسجد کے 87 سالہ امام شیخ عکرمہ صبری منگل کے روز یروشلم کی ایک اسرائیلی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کے خلاف 2022 کی 2 تعزییتی تقاریر اور 2024 میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر اظہارِ افسوس کے حوالے سے ’اشتعال انگیزی‘ کے الزامات پڑھ کر سنائے گئے۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب کا اسرائیلی وزیر کی مسجد الاقصیٰ میں اشتعال انگیزی پر شدید ردعمل
شیخ صبری نے اسرائیلی اقدامات کو غیرقانونی، غیرانسانی اور الاقصیٰ کی حرمت کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ مقصد فلسطینیوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔
دفاعی وکیل خالد زبارکہ نے الزامات کو مکمل طور پر من گھڑت قرار دیتے ہوئے مزید شواہد طلب کرنے کا اعلان کیا۔ عدالت نے اگلی سماعت 6 جنوری کے لیے مقرر کر دی۔
مزید پڑھیں:الاقصیٰ پر اسرائیلی وزرا اور آبادکاروں کا دھاوا قابل مذمت ہے، وزیراعظم پاکستان
شیخ صبری کو اس سے قبل اگست 2024 میں 6 ماہ کے لیے الاقصیٰ میں داخلے سے بھی روک دیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی عدالت الاقصیٰ مسجد امام شیخ عکرمہ صبری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی عدالت الاقصی مسجد
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔