ترسیلات زر میں اضافہ، مگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقرار
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں رواں مالی سال کی پہلی چار ماہ کے دوران 256 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ اشیا خورونوش اور دیگر مال کی درآمدات میں اضافے کو قرار دیا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پیر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جولائی تا اکتوبر مالی سال 26-2025 کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 73 کروڑ 33 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن، آئندہ مالی سال میں افراط زر میں کمی کا امکان ہے، فچ رپورٹ
جبکہ گزشتہ برس اسی مدت میں یہ خسارہ 20 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا، اس طرح کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 52 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو ستمبر 2025 میں 8 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے سرپلس کے بعد اکتوبر 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ 11 کروڑ 20 لاکھ ڈالر خسارے میں چلا گیا۔
Pakistan Economy – Current Account posts USD 112mn deficit in Oct’25
Full Reporthttps://t.
— Arif Habib Limited (@ArifHabibLtd) November 17, 2025
یہ تبدیلی بنیادی طور پر تجارتی خسارے میں 4 فیصد ماہ بہ ماہ اضافے کے باعث سامنے آئی، جس کی وجہ درآمدات میں تیز رفتار اضافہ اور ملکی کھپت میں بہتری بتائی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان توقعات کے مطابق ہے کیونکہ معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ پہلے ہی متوقع تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں، درآمدات میں اضافہ برآمدات پر بھاری
ان کے مطابق اگرچہ برآمدات میں معتدل اضافہ ہوا ہے، لیکن درآمدات کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری کے ساتھ درآمدات میں اضافہ جاری رہنے کی توقع ہے، جب کہ ترسیلات زر کا منظرنامہ بھی مثبت ہے۔
اس اضافے کے باوجود اسٹیٹ بینک کو امید ہے کہ مالی سال 26-2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کی حد میں رہے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری، فچ ریٹنگز نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا درآمدی بل 4 ماہ میں 10 فیصد بڑھ کر 20.72 ارب ڈالر ہو گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 18.9 ارب ڈالر تھا۔
مثبت پہلو یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر توقعات سے بڑھ کر موصول ہو رہی ہیں، اکتوبر 2025 میں ترسیلات زر 3.4 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو ستمبر کی 3.1 ارب ڈالر کی ترسیلات سے زیادہ ہیں۔
اسٹیٹ بینک کو امید ہے کہ مالی سال کے اختتام تک ترسیلات زر مقررہ ہدف سے آگے جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت مستحکم راہ پر، ریٹنگ میں بہتری کی امید: وزیر خزانہ کی موڈیز کو بریفنگ
اسی طرح، متوقع سرکاری مالی معاونت ملنے کی صورت میں زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر 2025 تک 15.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی تا اکتوبر 26-2025 کے دوران خدمات کے کھاتے میں 1.164 ارب ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ اسی عرصے میں پرائمری آمدنی کے کھاتے میں 3.1 ارب ڈالر خسارہ سامنے آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ بینک اشیا خورونوش ترسیلات زر خسارہ کرنٹ اکاؤنٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک اشیا خورونوش ترسیلات زر کرنٹ اکاؤنٹ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں درآمدات میں اسٹیٹ بینک ترسیلات زر لاکھ ڈالر میں اضافہ ریکارڈ کی مالی سال کے مطابق ارب ڈالر
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز