اسلام آباد خودکش حملے پر عالمی سطح پر مذمت، اقوام متحدہ، امریکا، چین اور ترکی کا اظہارِ افسوس
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد عالمی رہنماؤں اور تنظیموں کی جانب سے شدید مذمتی بیانات سامنے آئے ہیں۔ اقوام متحدہ، امریکہ، چین، برطانیہ، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
گزشتہ روز اسلام آباد کے جی-11 ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان عزیز حق نے کہا کہ سیکریٹری جنرل دہشت گردی کے تمام واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
The United States stands in solidarity with Pakistan in the struggle against terrorism.
امریکہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں کہا کہ "ہم پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کھڑے ہیں۔ ہماری ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے۔"
چین نے بھی اسلام آباد دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے "گہرے دکھ" کا اظہار کیا۔
We strongly condemn the suicide blast near Islamabad District Judicial Complex, extend our deepest condolences to the deceased victims, express our sincere sympathies to their families and the injured, and we wish for the early recovery of the injured.
— Chinese Emb Pakistan (@CathayPak) November 11, 2025برطانیہ کے ہائی کمشنر جین میریٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کرتی ہیں اور برطانوی شہریوں کو پاکستان میں سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ برطانوی حکومت نے اس واقعے کے بعد اپنے ٹریول ایڈوائزری کو بھی اپ ڈیٹ کیا۔
ترکی کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
We are aware of an explosion in Islamabad which has reportedly left several people dead. We are closely tracking, and British nationals should monitor travel advice. My thoughts are with the loved ones of those who have lost their lives.
— Jane Marriott (@JaneMarriottUK) November 11, 2025اسی طرح قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی اسلام آباد اور جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی۔ ان ممالک نے پاکستان کی حکومت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی، تشدد اور انتہا پسندی کی مخالفت کرتے ہیں۔
اسلام آباد دھماکے کے بعد عالمی برادری کا اتفاق رائے یہی ہے کہ ایسے بزدلانہ اقدامات پاکستان کو کمزور نہیں کرسکتے، بلکہ دہشت گردی کے خلاف عزم کو مزید مضبوط کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے کی شدید مذمت اقوام متحدہ اسلام آباد کرتے ہوئے ہونے والے مذمت کرتے کہا کہ وہ کا اظہار
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر