پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں سابق کپتان سرفراز احمد کو ذمے داریاں ملنے کے بعد سابق ٹیسٹ کرکٹر اظہر علی نے قومی سلیکشن کمیٹی اور بوتھ ڈیولمپنٹ کی سربراہی چھوڑ دی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 9: شاہین شاہ کی کپتانی ایکسپوز، اظہر علی نے بڑی وجہ بتا دی

یاد رہے کہ پی سی بی نے 2 روز قبل سرفراز احمد کو پاکستان شاہینز (قومی کرکٹ ٹیم) اور انڈر 19 ٹیم کی ذاریاں سونپی گئی تھیں۔ یہ فیصلہ پی سی بی نے سرفراز کی صلاحیتیوں اور کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا تھا۔ جس کے بعد ہی اظہر علی کا استعفیٰ بھی آگیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اظہر علی اس بات پر خوش نہیں تھے اور اس لیے انہوں نے سوچا کہ کہیں آگے جاکر ان کے کام میں کوئی مداخلت نہ ہو اس لیے وہ اپنی ذمے داریاں چھوڑ دیں تو بہتر ہوگا۔

مزید پڑھیے: سابق ٹیسٹ کرکٹر وزیر محمد 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

اظہر علی کو انڈر 17 اور 16 کی ذمے داریاں ملی ہوئی تھیں جبکہ انڈر 19 ٹیم کے معاملات اب سرفراز کے پاس آگئے تھے۔ سرفراز کو ذمے داریاں دینے کا مقصد گراس روٹ لیول پر توجہ دیتے ہوئے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم کے لیے تیار کرنا ہے تاکہ وہ کھیل میں دور جدید کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھ سکیں اور ملک کا نام روشن کریں۔

’کلیش آف انٹریسٹ‘

اظہر علی کے کام سے کرکٹ بورڈ زیادہ مطمئن نہیں تھا جبکہ ایک وجہ اور بھی ہوسکتی ہے کہ اظہر علی کے بیٹے انڈر 19 میں کھیلتے ہیں جبکہ اظہر کے پاس سلیکشن کی ذمے داریاں ہیں۔

مزید پڑھیں: تنازعات کے باوجود بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاک بھارت میچوں کو لازمی قرار دے دیا

تاہم اس کے باوجود کرکٹ بورڈ نے ان کو موقع دیا ہوا تھا اور اس بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن اب اظہر علی خود ہی اپنی ذمے داریوں سے عہدہ برا ہوگئے ہیں اور اپنا استعفیٰ پی سی بی کو بھجوا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اظہر علی پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی سابق کپتان سرفراز احمد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اظہر علی پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی سابق کپتان سرفراز احمد ذمے داریاں کرکٹ بورڈ اظہر علی پی سی بی

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم